Jadid Khabar

ہائی کورٹ کے تبصرے پر اکھلیش کا یوگی حکومت پر حملہ، گرام پردھانوں کے معاملے پر اٹھائے سوال

Thumb

لکھنؤ، 26 جون (یو این آئی) سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے گرام پردھانوں کو ایڈمنسٹریٹر بنائے جانے کے معاملے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے تبصرے کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت اپنی کامیابیوں کی تشہیر میں مصروف ہے، وہیں دوسری جانب ہائی کورٹ کی پھٹکار نے حکومت کے فیصلے پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ہائی کورٹ نے مدت کار ختم ہونے کے بعد گرام پردھانوں کو ایڈمنسٹریٹر بنائے جانے کے حکومت کے فیصلے کو غیر آئینی بتایا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر کوئی فیصلہ غیر آئینی ہے، تو اس کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کیا کارروائی ہوگی۔
ایس پی صدر نے کہا کہ حکومت کے اس فیصلے سے گرام پردھانوں میں نئے ترقیاتی کاموں کی امید جاگی تھی اور انہوں نے گاؤں والوں سے کئی وعدے بھی کیے تھے۔ اب عدالت کے تبصرے کے بعد وہ تذبذب کی صورتحال میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گاؤں والے تکنیکی پہلوؤں کو نہیں سمجھیں گے اور نامکمل کاموں کے لیے گرام پردھانوں کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گرام پردھانوں میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس دوران ہوئے اخراجات کا بوجھ کہیں انہیں خود نہ برداشت کرنا پڑے۔
اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ اس پورے واقعے کا اثر آئندہ انتخابات میں دیکھنے کو ملے گا اور بی جے پی کو اس کا سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی حکمت عملی اسی پر بھاری پڑ گئی ہے اور پنچایتی راج کے وزیر بھی اس معاملے پر عوام کے درمیان جانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے پردھانوں کو ایڈمنسٹریٹر بنائے جانے کے ریاستی حکومت کے فیصلے پر روک لگا دی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 13 جولائی کو ہوگی۔