شدید گرمی کی لپیٹ میں یورپ، فرانس میں بجلی کا بحران
لندن: یورپ اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہے جس کے باعث کئی برسوں کے درجۂ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ برطانیہ، فرانس، اٹلی، نیدرلینڈز، پولینڈ، کروشیا اور ہنگری سمیت متعدد ممالک نے عوام کو محتاط رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے مختلف درجوں کے ہیٹ ویو الرٹ جاری کر دیے ہیں۔
برطانیہ میں شدید گرمی کے باعث ریل خدمات متاثر ہوئی ہیں اور متعدد ٹرینیں تاخیر کا شکار ہیں۔ ٹرانسپورٹ حکام نے عوام سے بدھ اور جمعرات کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔ قومی ریلوے انتظامیہ کے مطابق بعض اہم ریلوے خدمات میں جمعہ تک تعطل کا خدشہ برقرار ہے۔
دوسری جانب گرمی کی شدت کے پیش نظر کئی علاقوں میں اسکول جلد بند کیے جا رہے ہیں یا مکمل طور پر بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ صرف سمرسیٹ میں تقریباً 100 اسکول 2 روز کے لیے بند رہیں گے جبکہ دیگر علاقوں میں بھی درجنوں تعلیمی ادارے متاثر ہوئے ہیں۔
فرانس میں ریکارڈ توڑ گرمی کے دوران مغربی علاقوں میں تقریباً 68 ہزار گھروں کی بجلی منقطع ہو گئی، جسے موجودہ گرمی کی لہر کے دوران پہلی بڑی بجلی بندش قرار دیا جا رہا ہے۔ منگل کو فرانس میں اوسط درجۂ حرارت تقریباً 30 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو ملکی تاریخ کے گرم ترین دنوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتے کے اختتام تک بعض علاقوں میں درجۂ حرارت 40 سے 42 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے جبکہ رات کے وقت بھی گرمی میں نمایاں کمی کی توقع نہیں۔
شدید گرمی کے اثرات صرف بنیادی خدمات تک محدود نہیں رہے۔ فرانس میں حالیہ دنوں کے دوران غیر محفوظ مقامات پر تیراکی کرتے ہوئے 40 افراد کے ڈوب کر ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 90 فیصد سے زائد آبادی اس وقت شدید گرمی سے متاثر ہے۔
اٹلی کی وزارتِ صحت نے میلان اور روم سمیت 16 شہروں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ نیدرلینڈز کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں بھی جمعہ تک کوڈ اورنج الرٹ نافذ رہے گا۔ راجدھانی ایمسٹرڈم میں شہریوں کو گرمی سے بچاؤ کے لیے بعض کھلے سوئمنگ پولوں میں مفت داخلے کی سہولت دی گئی ہے جبکہ ریلوے حکام نے چند راستوں پر ٹرینوں کی تعداد کم کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فضا میں گرم ہوا کے طویل عرصے تک ایک ہی مقام پر ٹھہر جانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یہ صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ پیش گوئی کی گئی ہے کہ آئندہ دنوں میں یہ گرمی کی لہر مشرقی یورپ تک پھیل سکتی ہے۔ پولینڈ، کروشیا اور ہنگری نے بھی بلند درجۂ حرارت کے پیش نظر سخت ترین انتباہات جاری کر دیے ہیں۔