Jadid Khabar

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران مختلف حادثات اور حملوں میں اسرائیل و امریکہ سے زیادہ ہندوستانی شہری جاں بحق

Thumb

ایران جنگ میں اسرائیل اور امریکہ سے زیادہ ہندوستانی شہری مارے جا چکے ہیں۔ وہ بھی تب، جب ہندوستان اس جنگ میں کسی بھی طرح سے شامل نہیں ہے۔ قطر کے ’راس لفان‘ صنعتی شہر میں پیر (22 جون) کو ایک گیس پلانٹ فیکٹری میں دھماکہ ہوا۔ اس واقعے میں 12 ہندوستانی شہریوں کی موت ہو گئی، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان مختلف حادثات اور حملوں میں مرنے والے ہندوستانیوں کی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے۔ اس جنگ میں امریکہ کے 13 اور اسرائیل کے 24 شہری مارے گئے ہیں۔ جنگ میں اسرائیل کے حملے سے سب سے زیادہ لبنان کے 4 ہزار اور ایران کے 3600 لوگ مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران اور اسرائیل-امریکہ جنگ کا آغاز ہوا تھا۔ اس جنگ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے لے کر آئی آر جی سی کے سربراہ محمد پاکپور اور ایران کی سپریم سیکورٹی کونسل کے سکریٹری علی لاریجانی تک کا قتل ہو چکا ہے۔ ہندوستان کے 6 شہری آبنائے ہرمز میں مارے گئے ہیں، ان میں سے 3 شہریوں کی موت امریکی حملے میں ہوئی۔ ہندوستان نے اس کو لے کر امریکہ کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ خود وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیر خارجہ کو فون کر کے اس پر احتجاج درج کرایا تھا۔
اس کے علاوہ قطر میں ہی گزشتہ دنوں ایک حملہ میں ایک ہندوستانی شہری کی موت ہو گئی تھی۔ ایک ہندوستانی کی موت کویت میں ایران کے حملے کے دوران ہو گئی تھی۔ یو اے ای میں بھی ہندوستانی شہری مارے جا چکے ہیں۔ یعنی کہ مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان اب تک 25 ہندوستانیوں کی موت ہو چکی ہے۔
ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ سے زیادہ ہندوستانی شہری مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران کیوں جاں بحق ہوئے؟ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران اسرائیل سے زیادہ کویت اور یو اے ای پر حملے کیے۔ اسرائیل پر اس نے شروعات میں ہی حملہ کیا جس کی وجہ سے کچھ اسرائیلیوں کی موت ہوئی۔ بعد میں اسرائیل نے اپنے شہریوں کو بنکر میں شفٹ کرنا شروع کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ایران جنگ میں اسرائیل کو زیادہ نقصان نہیں پہنچ پایا۔ جبکہ امریکہ نے جنگ سے قبل ہی اپنے شہریوں کو خلیج سے بلا لیا تھا۔ جنگ میں امریکہ کے صرف فوجی مارے گئے ہیں۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ خلیجی ممالک میں ہندوستانیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ سعودی عرب میں 27، یو اے ای میں 43، کویت میں 10 اور قطر میں 8 لاکھ تارکین وطن رہتے ہیں۔ قطر کے جس راس لفان میں دھماکہ ہوا وہاں کافی تعداد میں ہندوستانی کام کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مرنے والوں میں 12 ہندوستانی شہری شامل ہیں۔ تیسری اور آخری وجہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں جو جہاز پھنسے ہیں، اس پر کام کرنے والے زیادہ تر ہندوستانی ہیں۔ حالیہ دیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز میں پھنسے 550 جہازوں پر 18 ہزار سے زائد ہندوستانی شہری ہیں۔ جہازوں پر حملے کی صورت میں ہندوستانی کی موت ہو جاتی ہے۔