Jadid Khabar

کیرالہ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں میں خواتین کے مفت سفر منصوبہ کا آغاز

Thumb

 
کیرالہ کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے پیر (15 جون) کو خواتین کے لیے ریاست کی مفت بس منصوبہ کا افتاح کیا۔ یہ کانگریس کی قیادت والی یو ڈی ایف کے انتخابی منشور کا ایک اہم وعدہ تھا۔ تھمپانور سنٹرل بس ٹرمینل پر منعقدہ اس افتتاحی تقریب میں بھاری بھیڑ امڈ آئی، جس میں سینئر وزراء، اعلیٰ افسران اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے لیڈران شامل ہوئے۔ پہلی بس سروس تھمپانور سے اسٹیٹ سکریٹریٹ تک چلائی گئی، جس نے 3 کلومیٹر سے بھی کم کا مختصر فاصلہ طے کیا، یہ اس منصوبہ کے باقاعدہ آغاز کا ایک علامتی قدم تھا۔
اس تقریب میں وزیر ٹرانسپورٹ سی پی جان، پسماندہ طبقات کے وزیر کے اے تلسی، چیف سکریٹری اے جے جے تلک اور دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے اور بعد میں انہوں نے پہلے سفر میں حصہ بھی لیا۔ یہ منصوبہ کے ایس آر ٹی سی کی ’آرڈینری‘ کیٹیگری کی بسوں پر نافذ ہوگی، جس میں ریاست بھر میں چلنے والی کارپوریشن کی 5,700 سے زائد گاڑیوں میں سے تقریباً 3,125 بسیں شامل ہوں گی۔ صبح 9 بجے سے، متعلقہ بسوں میں خواتین مسافروں کو کنڈکٹر ’زیرو-فیئر ٹکٹ‘ جاری کریں گے۔
چیف سکریٹری جے تلک نے اس اقدام کو عام پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری لانے سے کہیں بڑھ کر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ بسیں ’آرڈینری‘ (عام) ہوں، لیکن سفر کا تجربہ ’آرڈینری‘ نہیں ہے۔ انہوں نے خواتین مسافروں سے اپیل کی کہ وہ اپنا زیرو ٹکٹ لیں اور بلا جھجھک سفر کریں۔ اس افتتاحی تقریب کی ایک خاص بات ’کے ایس آر ٹی سی‘ کی تجربہ کار ڈرائیور وی پی شیلا تھیں، جنہوں نے پہلی بس چلائی اور اس تقریب کو تاریخی بنا دیا۔ شیلا جو 13 سال قبل کارپوریشن کی پہلی خاتون ڈرائیور بنی تھیں، انہیں اس خاص سفر کے لیے پیرمباور سے بلایا گیا تھا۔ اس سروس میں ایک خاتون کنڈکٹر بھی موجود تھیں۔ اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شیلا نے کہا کہ اس تاریخی سفر کا حصہ بن کر انہیں فخر محسوس ہو رہا ہے۔
بس میں سوار خواتین مسافروں نے اس قدم کا خیرمقدم کیا۔ کئی خواتین نے بتایا کہ اس سے ہر ماہ 2500 سے 3500 روپے تک کی بچت ہو سکتی ہے، جس سے گھر کی ضروریات کو پورا کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ افسران نے تصدیق کی کہ اس منصوبہ کا فائدہ ٹرانسجینڈر برادری کو بھی ملے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ٹرانسپورٹ سی پی جان نے اس قدم کو کیرالہ کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے 1938 میں تراونکور انتظامیہ کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ کے آغاز سے لے کر آج کے ’کے ایس آر ٹی سی‘ سسٹم تک کے ارتقائی سفر کا ذکر کیا۔
وزیر اعلیٰ ستیسن نے افتتاحی بس میں سوار ہونے سے قبل اس اسکیم کو خواتین کی اقتصادی خودمختاری میں ایک سرمایہ کاری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مفت سفر سے ہونے والی بچت معیشت میں واپس آئے گی اور گھر بار نیز کمیونٹی کے اخراجات میں مددگار ثابت ہوگی۔ وی ڈی ستیسن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت پبلک ٹرانسپورٹ کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ بس آپریٹرز کے مفادات کا بھی خیال رکھے گی۔ حال ہی میں عہدہ سنبھالنے والی ٹرانسپورٹ سکریٹری ٹی وی انوپما نے اس اسکیم کو نافذ کرنے والے پہلے حکم نامے پر دستخط کیے۔ وزیر اعلیٰ ستیسن نے خاتون مسافروں کو مفت سفر کے پہلے ٹکٹ سونپ کر تقریب کا اختتام کیا اور پھر وزراء کے وفد کے ساتھ سکریٹریٹ تک کے مختصر سفر کے لیے بس میں سوار ہوئے۔