Jadid Khabar

پاکستان کے خیبر پختونخوا میں فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، 2 پائلٹ ہلاک

Thumb

 
پاکستانی فضائیہ کا ایک فوجی تربیتی طیارہ پیر (15 جون) کو گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان میں پیش آیا۔ پاک فضائیہ کا ’سپر مشاق‘ تربیتی طیارہ معمول کے تربیتی مشن پر تھا، پرواز کے دوران اچانک کنٹرول کھو بیٹھا اور آگ کے گولے کی طرح زمین پر گر کر تباہ ہوگیا۔ واقعے سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا، سیکیورٹی ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق طیارے میں سوار دونوں افراد جاں بحق ہوگئے۔ وہیں 2 راہگیر بھی اس حادثے کی زد میں آنے سے شدید زخمی ہو گئے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق حادثے میں پاک فضائیہ کے فلائٹ لیفٹیننٹ محمد قاسم عبداللہ اور پاکستان بحریہ کے لیفٹیننٹ طہ عباسی کی موت ہوگئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں افسران معمول کی تربیتی پرواز پر تھے جب ان کا سپر مشاق طیارہ مردان کے قریب حادثے کا شکار ہوگیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ایئر ہیڈکوارٹرز نے تحقیقاتی بورڈ تشکیل دے دیا ہے، جو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کرے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ حادثہ اتنا اچانک اور اتنی تیزی سے پیش آیا کہ دونوں پائلٹوں کو باہر نکلنے کا وقت تک نہیں مل پایا۔ جس کے نتیجے میں پاک فضائیہ کے ایک انسٹرکٹر پائلٹ اور بحریہ کے ایک زیر تربیت افسر کی موت ہوگئی۔
نیوز پورٹل ’نیوز نیشن‘ کے مطابق طیارہ پاکستانی فوج کی معمول کی تربیتی سرگرمیوں کا حصہ تھا۔ طیارہ تربیتی مشن کے تحت طے شدہ روٹ پر پرواز کر رہا تھا کہ اچانک کسی فنی خرابی یا دیگر وجوہات سے گر کر تباہ ہو گیا۔ تاہم ابھی تک حادثے کی اصل وجہ سامنے نہیں آسکی ہے۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ حادثے سے پہلے آسمان پر ایک زوردار آواز سنائی دی، جس کے بعد آگ کے گولے کی طرح طیارہ زمین پر گر کر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے بعد گرد و نواح میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔
طیارے کے حادثے کی اطلاع ملتے ہی فوج، مقامی انتظامیہ اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ طیارے میں سوار عملے اور دیگر اہلکاروں کی حالت کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ تاہم ابھی تک سرکاری طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔