سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ، سرمایہ کاروں میں تشویش
نئی دہلی: مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تناؤ، عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورت حال اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کے درمیان بدھ کے روز سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ ملکی اجناس بازار میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مسلسل کمی نے سرمایہ کاروں اور زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
ملٹی کموڈٹی ایکسچینج آف انڈیا پر اگست واری سونے کا سودا 149926 روپے فی دس گرام کی سطح پر کھلا اور کاروبار کے دوران تقریباً دو فیصد تک گر کر 149500 روپے فی دس گرام کے یومیہ نچلے درجے تک پہنچ گیا۔ اسی طرح جولائی واری چاندی 234009 روپے فی کلوگرام کی سطح پر کھلی اور تقریباً دو فیصد کی کمی کے بعد 233400 روپے فی کلوگرام تک نیچے آ گئی۔
خبر لکھے جانے کے وقت سونا 2154 روپے کی کمی کے ساتھ 150279 روپے فی دس گرام کے قریب کاروبار کرتا دیکھا گیا، جبکہ چاندی 3328 روپے کی گراوٹ کے بعد 23500 روپے فی کلوگرام کے قریب تھی۔ انڈین بلین اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق منگل کے روز 99 اعشاریہ 9 فیصد خالص سونے کی قیمت 152519 روپے فی دس گرام تھی، جبکہ اسی خالصیت والی چاندی 245938 روپے فی کلوگرام پر بند ہوئی تھی۔
بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران قیمتی دھاتوں میں مسلسل دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔ چاندی اپنی بلند ترین سطح سے 221000 روپے سے زیادہ نیچے آ چکی ہے، جبکہ سونا بھی اپنی ریکارڈ بلند سطح سے پچاس ہزار روپے سے زیادہ کی کمی کا شکار ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق سونے کے لیے 152000 روپے فی دس گرام کی سطح فوری مزاحمت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے اوپر مستحکم ہوتی ہے تو سونے میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے اور قیمت 154000 سے 155000 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ دوسری جانب اگر سونا 149500 سے 149000 ہزار روپے کے نیچے جاتا ہے تو فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے اور قیمت 148000 ہزار روپے کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
چاندی کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ 238000 سے 240000 روپے فی کلوگرام کا دائرہ فوری مزاحمت کا علاقہ ہے۔ اگر قیمت اس سے اوپر جاتی ہے تو بحالی کے آثار پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم 232000 ہزار روپے سے نیچے پھسلنے کی صورت میں چاندی مزید کم ہو کر 228225 ہزار روپے فی کلوگرام تک جا سکتی ہے۔