اتر پردیش کے سابق کابینہ وزیر اور سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے سینئر لیڈر محمد اعظم خان کو مقامی عدالت سے ایک اور معاملے میں بڑا جھٹکا لگا ہے۔ رامپور کی خصوصی عدالت نے انہیں 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران دیے گئے مبینہ متنازعہ ’تنخواہ دار‘ بیان کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا ہے۔ رام پور ایم پی ایم-ایل اے کورٹ نے ہفتے کو معاملے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے اعظم خان کو قصوروار قرار دیا۔
یہ معاملہ 2019 میں لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) کے خلاف کیے گئے مبینہ قابل اعتراض ریمارکس سے متعلق ہے۔ اعظم خان پر ایک انتخابی ریلی میں اس وقت کے ڈی ایم کے بارے میں متنازعہ اور دھمکی آمیز تبصرہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس بیان کے بعد اعظم خان کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سمیت متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اعظم خان لوک سبھا انتخابات میں سماجوادی پارٹی کے امیدوار تھے۔ وہ بھوٹ تھانہ علاقے میں انتخابی مہم کے لیے پہنچے تھے۔ اس دوران ان کی ایک تقریر وائرل ہوگئی۔ جس میں وہ اس وقت کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو نشانہ بناتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ویڈیو کے مطابق اعظم خان نے کہا کہ وہ (ڈی ایم) تنخواہ دار ملازم ہیں، ان سے مت ڈرو، انہیں کے ساتھ اتحاد کیا ہے جو جوتے صاف کرا لیتی ہیں، انشاء اللہ، میں الیکشن جیتنے کے بعد ان سے جوتے صاف کرواؤں گا۔ اس دوران انہوں نے مایاوتی کا بھی ذکر کیا تھا۔
اس بیان کے بعد اعظم خان کے خلاف نفرت انگیز تقریر اور ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ رامپور کی خصوصی ایم پی/ایم ایل اے کورٹ میں اس کیس کی سماعت طویل عرصے سے چل رہی تھی۔ دونوں طرف سے دلائل سننے اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد عدالت نے آج اعظم خان کو مجرم قرار دیا۔
عدالت نے اعظم خان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 2 سال قید کی سزا سنائی ہے، ان پر 5000 روپے کا جرمانہ بھی لگایا گیا ہے۔ رام پور کی ایم پی/ ایم ایل اے اسپیشل کورٹ مجسٹریٹ ٹرائل شوبھت بنسل کی عدالت نے خان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ اعظم خان کو اس سے قبل بھی کئی مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ مختلف مقدمات میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اعظم خان اس وقت جیل میں ہے۔