وزیر اعظم نریندر مودی کی ’بچت والی اپیل‘ کا اثر 12 ریاستوں میں واضح طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تریپورہ میں گروپ ’سی‘ اور ’ڈی‘ کے صرف 50 فیصد سرکاری ملازمین ہی روزانہ دفتر جائیں گے، باقی ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے۔ اسی طرح آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو اور گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے بھی پیٹرول بچانے اور سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے اپنے قافلے میں گاڑیوں کی تعداد 50 فیصد کم کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ پنجاب میں گورنر آفس میں ہر بدھ کو افسران 4 پہیہ گاڑی سے نہیں آئیں گے، جبکہ ہریانہ میں وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی ہفتہ میں ایک دن بغیر گاڑی کے چلیں گے۔
اس سے قبل بدھ کو دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان اور بہار میں بھی وی وی آئی پی قافلوں میں گاڑیوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی بھی بدھ کو قافلہ چھوڑ کر صرف 2 گاڑیوں کے ساتھ نکلے۔ عام طور پر وزیر اعظم کے قافلے میں 12 سے 15 گاڑیاں ہوتی ہیں۔ آئیے نیچے نظر ڈالتے ہیں ان 12 ریاستوں پر، جہاں پی ایم مودی کی ’بچت والی اپیل‘ کا خاطر خواہ اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔
1. اڈیشہ: وزیر اعلیٰ نے قافلے میں گاڑیاں کم کیں
اڈیشہ کے وزیر اعلیٰ موہن ماجھی نے اپنے قافلے کی گاڑیاں کم کر دی ہیں۔ ان کے قافلے میں صرف 4 گاڑیاں ہیں، جن میں 2 پولیس کی گاڑیاں شامل ہیں۔
2. تریپورہ: 50 فیصد ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے
تریپورہ حکومت نے اخراجات اور پیٹرول-ڈیزل بچانے کے لیے بڑا فیصلہ لیا ہے۔ اب سرکاری دفاتر میں گروپ ’سی‘ اور ’ڈی‘ کے صرف 50 فیصد ملازمین ہی روزانہ دفتر آئیں گے، باقی ملازمین ورک فرام ہوم کریں گے۔ حکومت نے تمام محکموں کو ملازمین کی ہفتہ وار ڈیوٹی روسٹر بنانے کی ہدایت بھی دے دی ہے۔ ضروری اور ایمرجنسی خدمات والے ملازمین پر یہ اصول نافذ نہیں ہوگا۔
ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے پیٹرول-ڈیزل بچانے کے لیے اپنے سرکاری قافلے میں گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کے قافلے میں صرف سیکورٹی کے لیے ضروری گاڑیاں ہی شامل ہوں گی۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی طے کیا ہے کہ وہ ہفتہ میں ایک دن کوئی بھی گاڑی استعمال نہیں کریں گے۔
آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو نے اپنے قافلے میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 50 فیصد کم کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اب ضلعی دوروں کے دوران ان کے ساتھ پہلے سے نصف گاڑیاں ہی چلیں گی۔ وزیر اعلیٰ نے وزراء اور وی آئی پی افراد سے بھی سرکاری گاڑیوں کا کم استعمال کرنے اور ضرورت ہونے پر ہی سفر کرنے کی اپیل کی ہے۔
5. پنجاب: ہر بدھ افسران 4 پہیہ گاڑی سے نہیں آئیں گے
پنجاب کے گورنر گلاب چند کٹاریا نے کہا کہ ’’ہم نے اپنے افسران کے ساتھ میٹنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر بدھ کو ہمارا کوئی بھی افسر 4 پہیہ گاڑی سے نہیں آئے گا۔‘‘
6. راجستھان: وزیر اعلیٰ بھجن لال کے قافلے میں اب 5 گاڑیاں
راجستھان کے وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے اپنے قافلے میں گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کا حکم دیا ہے۔ پہلے قافلے میں 14 سے 16 گاڑیاں ہوتی تھیں، لیکن بدھ کو دہلی دورہ کے دوران ان کے ساتھ صرف 5 گاڑیاں ہی چلیں۔
7. بہار: وزیر اعلیٰ الیکٹرک گاڑی سے سکریٹریٹ پہنچے
بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری بدھ کو کابینہ میٹنگ کے لیے الیکٹرک گاڑی سے سکریٹریٹ پہنچے۔ تاہم، میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعلیٰ کی گاڑی کے پیچھے پیٹرول-ڈیزل والی تقریباً 20 گاڑیوں کا قافلہ تھا۔ اب کئی وزراء صرف ایک یا دو گاڑیوں میں ہی پروگراموں اور میٹنگوں میں پہنچ رہے ہیں۔
مدھیہ پردیش میں اب وزراء اور وی آئی پی قافلوں میں گاڑیوں کی تعداد محدود کی جائے گی۔ ساتھ ہی سرکاری دوروں اور سفر کے دوران ریلیوں پر بھی پابندی رہے گی۔ وزیر اعلیٰ موہن یادو کو زیڈ پلس زمرے کی سیکورٹی ملی ہوئی ہے۔ اس وجہ سے ان کے قافلے میں اب تک 13 گاڑیاں شامل رہتی تھیں۔ نئے حکم کے بعد بھوپال میں مقامی دوروں کے دوران وزیر اعلیٰ کے قافلے میں اب صرف 8 گاڑیاں شامل ہوں گی۔
اتر پردیش میں یوگی حکومت نے گزشتہ منگل کو 7 بڑے فیصلے لیے۔ وزیر اعلیٰ، وزراء، اراکین اسمبلی اور افسران کے قافلے 50 فیصد کم ہوں گے۔ ہفتے میں ایک دن انہیں پبلک ٹرانسپورٹ یا بس-میٹرو سے سفر کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی ملازمین کو 2 دن ورک فرام ہوم کرنے کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔
دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے گزشتہ منگل کو دہلی میٹرو میں آئی این اے سے کڑکڑڈوما کورٹ تک سفر کیا۔ پھر میٹرو اسٹیشن سے سورج مل وہار واقع ’سی ایم شری اسکول‘ تک جانے کے لیے ای-رکشہ لیا۔ وہاں انہوں نے زون 1 اور 2 کے اسکول سربراہان کے ساتھ ایک سیشن میں حصہ لیا۔
مہاراشٹر حکومت میں وزیر آشیش شیلار نے کہا کہ وہ اس سال فرانس میں ہونے والے کانس فلم فیسٹیول میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجنگ وقت میں قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے محکمہ جاتی اخراجات میں کمی اور احتیاط کا فیصلہ لیا گیا ہے۔