Jadid Khabar

مودی-شاہ بے نقاب ہو چکے ہیں، عوام جلد انہیں سبق سکھائیں گے: راہل گاندھی

Thumb

گروگرام، (ہریانہ) 8 مئی (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کو گمراہ کر رہے ہیں اور عوام اب ان کی اصلیت کو سمجھ چکے ہیں، اس لیے عوام جلد ہی انہیں سبق سکھائیں گے۔ 
جمعہ کو ہریانہ کے گروگرام میں سدبھاونا یاترا کے دوران منعقدہ ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوان کانگریس لیڈروں کو ملک کی ہر ریاست میں اسی طرح کے دورے کرنے چاہئیں کیوں کہ اس طرح کے دوروں سے نہ صرف عوامی روابط میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ عوامی تشویش کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ دورے کانگریس کی روایت اور ثقافت کا حصہ ہیں۔ ان دوروں کے ذریعے ہی ہمیں لوگوں سے ٹھوس معلومات ملی ہیں کہ بی جے پی حکومت ووٹ چوری کی مرتکب ہوئی ہے۔ ہریانہ کے لوگ اس ووٹ چوری سے اچھی طرح واقف ہیں۔ 
مسٹر گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت کی من مانی بڑھ گئی ہے۔ اس مطلق العنانی کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور بیوروکریسی ان کے کنٹرول میں ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ کنٹرول انہیں ہمیشہ کے لیے اقتدار میں رکھے گا۔ تاہم عوام کو اب یہ احساس ہو گیا ہے کہ بی جے پی صرف ایک عارضی طاقت ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ملک میں چینی اشیاء فروخت ہو رہی ہیں، انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعے ملک کے نوجوانوں کو نشہ دیا جا رہا ہے اور حکومت اس برائی پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ اس معاملے میں حکومت کی اصلیت اب پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔ 
کانگریس لیڈر نے کہا کہ کوئی بھی وزیر اعظم ایسا معاہدہ نہیں کر سکتا تھا جو وزیر اعظم اور ان کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ کیا ہے، لیکن مسٹر مودی نے کسانوں کی قیمت پر یہ معاہدہ کیا ہے۔حکومت نے مکمل طور پر امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور یکطرفہ طور پر امریکہ کو ملک کے کسانوں پر حکومت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ امریکی کسانوں کی پیداوار ہندستان میں فروخت کی جائے گی، جب کہ ہندستانی کسان دیکھتے رہ جائیں گے۔ امریکہ کے ساتھ یہ معاہدہ ہندوستانی کسانوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، ہماری صنعتوں کو برباد کر رہا ہے اور امریکہ کو براہ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔ اس لیے یہ معاہدہ مکمل طور پر ملک کے خلاف ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی نے امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور اس ہتھیار ڈالنے کی وجہ مودی کے فنانسر اڈانی ہیں۔ یہ بی جے پی فنانسر امریکہ میں مقدمے کا سامنا کر رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مودی کی اس کمزوری کو سمجھتے ہیں، اس لیے وہ بار بار مسٹر مودی کو دھمکیاں دیتے ہوئے وزیر اعظم کو امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرتے ہیں۔ 
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ انہیں پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے پاس ای ڈی اور سی بی آئی ہے اور ان کے ذریعے وہ سب کو ڈرانا چاہتا ہے، لیکن کانگریس پارٹی کسی سے نہیں ڈرتی۔ کانگریس ملک کے عوام کی آواز ہے اور حکومت کانگریس کی آواز کو دبا کر ملک کے عوام کی آواز کو خاموش کرنا چاہتی ہے۔ 
انہوں نے کہا، "ملک میں نظریات کی جنگ چل رہی ہے۔ ایک طرف نفرت کا نظریہ ہے اور دوسری طرف ہم آہنگی ہے۔ ہم اتحاد اور سالمیت کے نظریے پر عمل کرتے ہوئے ملک میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ملک کے عوام انہیں سبق سکھائیں گے، اور ان کی شکست یقینی ہے۔"