Jadid Khabar

کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے سپریم کورٹ سے پیشگی ضمانت کو جمہوریت کی فتح قرار دیا

Thumb

کانگریس لیڈر پون کھیڑا کو آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی اہلیہ کے حوالے سے دیے گئے مبینہ بیانات کے معاملے میں سپریم کورٹ سے پیشگی ضمانت مل گئی ہے۔ اس پر انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک شخص کی جیت نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے لیے ایک وارننگ بھی ہے جو اقتدار کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ جب تک آئینی جمہوریت برقرار رہیں گے، تب تک سیاسی انتقام کے لیے ذاتی آزادی کی قربانی نہیں دی جا سکتی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ سے راحت ملنے کے بعد پون کھیڑا نے ہفتہ کو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک پوسٹ کی۔ اس میں انہوں نے عدالت کے فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے لکھا کہ یہ قانون کی جیت ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے صرف قانونی راحت نہیں ہے بلکہ ذاتی آزادی اور آئین کی مضبوطی کی علامت بھی ہے۔ اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں پون کھیڑا نے کانگریس کے سینئر لیڈران کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سونیا گاندھی، ملکارجن کھڑگے، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور کے سی وینوگوپال سمیت کئی لیڈران کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی قانونی ٹیم، خاص طور پر سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی اور دیگر وکلاء کا بھی ذکر کیا جنہوں نے اس معاملے میں ان کی پیروی کی۔
پون کھیڑا نے یہ بھی کہا کہ یہ پورا معاملہ سیاسی انتقام کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی طاقت کا استعمال ان کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی بھی تھا، جس میں ان کی آزادی کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے کانگریس کارکنان اور حامیوں کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس پورے وقت میں ان کا ساتھ دیا اور حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے لکھا کہ عوام کی حمایت ہی ان کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے۔
کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف ان کی ذاتی جیت نہیں ہے، بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو جمہوریت اور آئین پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جمہوری ملک میں سیاسی وجوہات کی بنا پر ذاتی آزادی کو کچلا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ سچائی کو دبانے کی چاہے کتنی ہی کوشش کی جائے، آخر کار جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ پوسٹ کے آخر میں انہوں نے ’ستیہ میو جیتے‘ لکھا۔