واشنگٹن، 30 اپریل (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ میں اپنے مقاصد تقریباً حاصل کرچکے ہیں اب ایران کو شکست تسلیم کرنا ہوگی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایران کی فضائیہ کو تباہ کرچکے ہیں، ان کی معیشت تباہ ہو رہی ہے، ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ کردیے ہیں، ایران کے پاس میزائل بنانے کی صلاحیت کم رہ گئی ہے۔
روسی صدر پوتن کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ آج گفتگو بہت اچھی رہی، یوکرین اور ایران کے بارے میں بات کی۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ پوتن نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرے، ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا،ایران اور دیگر ممالک بھی یہ بات جانتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم دوبارہ بلامقصد 18 گھنٹے کا سفرنہیں کریں گے، پوتن نے مجھے بتایا کہ وہ ایران کی یورینیم افزودگی کے معاملے پر فکرمند ہیں،روسی صدر ایران کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ،
ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر ٹرمپ نے اوپیک سے نکلنے کے یو اے ای کے اقدام کو زبردست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یو اے ای کے اس فیصلے سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتیں نیچے آسکتی ہیں یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایک بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام ترک کرنے کے معاہدے تک محاصرہ ختم نہیں ہوگا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے آئل کمپنیوں کے افسران کے ساتھ ایران کی ناکہ بندی میں توسیع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں ایٹمی پروگرام پر ہمارے خدشات دور ہوں۔