Jadid Khabar

لداخ کی ترقی مقامی مفادات کے مطابق ہونی چاہیے: راہل

Thumb

نئی دہلی، 30 اپریل (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ لداخ میں جمہوری حقوق کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وہاں کے لوگوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔

مسٹر گاندھی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (ٹویٹر) پر لکھا کہ لداخ کے نوجوانوں نے انہیں بتایا ہے کہ کس طرح ان کے خطے کو ایک طرح کے 'پولیس راج' میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وہاں لوگوں کے جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور مقامی آبادی کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ لداخ کی زمین اور حساس ماحول کو مبینہ طور پر بڑے صنعت کاروں کے مفادات کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی لوگوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

راہل گاندھی نے واضح کیا کہ لداخ کے لوگ ترقی کے خلاف نہیں ہیں، بلکہ وہ ایسی ترقی چاہتے ہیں جو مقامی برادری کو روزگار اور معاشی فائدہ پہنچائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر داخلہ امت شاہ اپنے مجوزہ دورے کے دوران خطے کی حقیقی صورتحال کو سمجھیں گے اور وہاں کے لوگوں کے خدشات پر توجہ دیں گے۔

قابلِ ذکر ہے کہ لداخ میں حالیہ برسوں میں سیاسی حقوق، زمین اور ترقیاتی ماڈل کے حوالے سے عدم اطمینان میں اضافہ ہوا ہے۔ جموں و کشمیر تنظیمِ نو ایکٹ 2019 کے بعد مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بننے سے وہاں اسمبلی موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے مقامی لوگ اپنے اختیارات محدود ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہاں کے لوگ بیرونی سرمایہ کاری اور بڑے منصوبوں کے زمین، روزگار اور نازک ماحول پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہندوستان کے اس حساس خطے کی ترقی میں مقامی آواز کو اولیت دی جائے۔