Jadid Khabar

سپریم کورٹ نے ایمس کی کیوریٹو پٹیشن مسترد کر دی، نابالغہ کے 30 ہفتوں کے حمل کو ختم کرنے کے حق کو برقرار رکھا

Thumb

نئی  دہلی، 30 اپریل (یو این آئی) سپریم کورٹ نے جمعرات کو آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، نئی  دہلی کی جانب سے دائر کردہ اس کیوریٹو پٹیشن پر غور کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں دو ججوں کے بنچ کے اس سابقہ فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جس میں ایک 15 سالہ نابالغ لڑکی کے 30 ہفتوں کے حمل کو ختم کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ عدالت نے ایمس کے ڈاکٹروں کو یہ آزادی دی ہے کہ وہ نابالغ اور اس کے خاندان کی کونسلنگ کریں اور ان کے ساتھ متعلقہ طبی رپورٹس اور معلومات شیئر کریں تاکہ وہ حمل جاری رکھنے یا اسے ختم کرنے کے حوالے سے ایک باخبر فیصلہ کر سکیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے مالیا باگچی پر مشتمل بنچ نے حمل ختم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ایمس کو یہ طریقہ کار مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ 
عدالت نے کہا کہ ایمس اپنا یہ فیصلہ کہ حمل ختم نہیں کیا جانا چاہیے ماں پر مسلط نہیں کر سکتا، اور عورت کے پاس باخبر فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے ریمارکس دیے کہ ناپسندیدہ حمل کا بوجھ عورت پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ اس سے قبل 24 اپریل کو جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھویان کے بنچ نے بھی حمل ختم کرنے کی اجازت دی تھی اور گزشتہ روز ایمس کی نظرثانی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایمس سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کرنے کے بجائے اسے چیلنج کر رہا ہے تاکہ ایک نابالغ لڑکی کے آئینی حقوق کو ختم کیا جا سکے۔
 اس کے بعد ایمس نے کیوریٹو پٹیشن دائر کی جسے آج صبح چیف جسٹس کے بنچ کے سامنے فوری طور پر پیش کیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈاکٹر پیدا ہونے والے بچے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور اس ماں کو نظر انداز کر رہے ہیں جو اتنی شدید تکلیف سے گزر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے جبکہ اس ماں کا خیال نہیں رکھا جا رہا جس نے یہ دکھ جھیلا ہے۔ ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت کے اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ ماں کے حقوق اور اس کی مرضی کو ترجیح حاصل ہے۔یواین آئی ۔ایف اے