Jadid Khabar

ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کا کیا اعلان

Thumb

 
 
ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ سمندری راستہ تقریباً 40 دنوں سے بند تھا اور کچھ ممالک کے جہاز ہی یہاں سے گزر پا رہے تھے، وہ بھی انتہائی مشکل حالات میں۔ اب 40 دنوں بعد سبھی نے راحت کی سانس لی ہے۔ حکومت ایران نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی تک اس سمندری راستہ کو سبھی کے لیے کھولنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جانکاری دی ہے۔ انھوں نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’لبنان میں نافذ جنگ بندی کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے سبھی جہازوں کی گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس سمندری راستہ کو جنگ بندی کی بچی ہوئی مدت تک کے لیے پوری طرح سے کھولا جاتا ہے۔‘‘ عراقچی نے اس پوسٹ کے ذریعہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اب سبھی جہاز آرام بغیر کسی مشکل ہرمز سے گزر سکیں گے۔
واضح رہے کہ اس سمندری راستہ کو لے کر امریکہ اور ایران میں لگاتار کشیدگی بنی ہوئی تھی۔ امریکہ مستقل اس راستے کو کھولنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔ جنگ کے بعد سے ہی ایران نے اس راستے کی ناکہ بندی کر دی تھی، جس سے پوری دنیا کی معیشت پر گہرا اثر پڑا تھا۔ ساتھ ہی تیل اور گیس کی سپلائی بھی متاثر ہوئی تھی۔ ایران کے ذریعہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا اعلان کرنا، راحت پہنچانے والا فیصلہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 2 دن قبل آبنائے ہرمز سے ناکہ بندی ہٹانے کی جانکاری دی تھی۔ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ چین سے ان کی بات ہوئی ہے اور جلد ہی ناکہ بندی ہٹائی جائے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران نے ہرمز سے متعلق بات مان لی ہے۔ ایران پر جنگ بندی کو آگے بڑھانے کے لیے ہرمز کھولنے کا دباؤ تھا۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی پر بات تبھی بڑھے گی، جب ایران آبنائے ہرمز کو کھولے گا۔