خواتین ریزرویشن قانون کے اچانک نفاذ پر جے رام رمیش کا ردعمل، کہا- ’یہ بالکل عجیب ہے، میں حیران ہوں‘
نئی دہلی: خواتین کو پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن دینے والے آئینی قانون کے اچانک نفاذ پر کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے سخت حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر معمولی اور سوالیہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب اس قانون میں مجوزہ ترمیمات پر پارلیمنٹ میں بحث جاری ہے اور ووٹنگ ہونا باقی ہے، ایسے وقت میں اس کے نفاذ کا اعلان سمجھ سے باہر ہے۔
جے رام رمیش نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ستمبر 2023 میں منظور کیا گیا ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ اب باضابطہ طور پر نافذ کر دیا گیا ہے، حالانکہ اس میں تبدیلیوں پر ابھی تک غور جاری ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ قانون سازی کے عمل پر بھی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس فیصلے پر ’مکمل طور پر حیران‘ ہیں اور اسے ایک عجیب پیش رفت مانتے ہیں۔
مرکزی قانون وزارت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ آئین کی 106ویں ترمیم کے تحت یہ قانون 16 اپریل 2026 سے مؤثر ہو چکا ہے۔ اس قانون کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مخصوص کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ تاہم، اس کے عملی نفاذ کو آئندہ مردم شماری اور اس کے بعد ہونے والی حدبندی کی کارروائی سے مشروط رکھا گیا ہے، جس کے باعث موجودہ لوک سبھا میں خواتین کو اس کا فوری فائدہ نہیں مل سکے گا۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس اہم قانون کے نفاذ کے وقت اور طریقہ کار پر وضاحت پیش کرنی چاہیے، خاص طور پر اس لیے کہ پارلیمنٹ میں اسی موضوع پر بحث جاری ہے۔ جے رام رمیش کے بیان کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں وہ قانون کے اصولی پہلو کے ساتھ ساتھ اس کے نفاذ کے وقت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس قانون میں پہلے ہی واضح کیا گیا تھا کہ خواتین کے لیے ریزرویشن کا اطلاق 2027 کی مردم شماری کے بعد ہونے والی حدبندی کے مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ اس کے باوجود حالیہ نوٹیفکیشن نے سیاسی ماحول میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ فی الحال پارلیمنٹ میں زیر بحث بلوں کا مقصد اس عمل کو 2029 تک عملی شکل دینا بتایا جا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے اگرچہ اس اقدام کو ایک رسمی اور تکنیکی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اپوزیشن اسے سیاسی حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ جے رام رمیش کے بیان نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر سیاسی گرما گرمی برقرار رہنے کا امکان ہے۔