امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ دریں اثناء ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے تمام فوجی یونٹوں کو فوری طور پر فائرنگ روکنے کا حکم دیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) پر جاری بیان میں سپریم لیڈر خامنہ ای نے کہا کہ یہ جنگ کا خاتمہ نہیں ہے لیکن تمام فوجی شاخوں کو سپریم لیڈر کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے فائرنگ بند کردینی چاہیے۔
جنگ بندی کے باوجود ایران نے سخت لہجے میں وارننگ جاری کی ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے کہا ہے کہ یہ اقدام جنگ کے خاتمے کا اشارہ نہیں ہے اور یہ کہ امریکہ یا اسرائیل کی طرف سے کوئی بھی چھوٹی سی غلطی ہوتی ہے تو اس کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہماری انگلیاں ٹرگر پر ہیں اور دشمن کی کسی بھی غلطی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
’فارس نیوز‘ کے مطابق ایرانی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ دشمن نے اپنی ظالمانہ، غیر قانونی اور مجرمانہ جنگ میں ملتِ ایران کے خلاف ایک ناقابلِ انکار، تاریخی اور فیصلہ کن شکست کھائی ہے۔ بیان کے مطابق اسلامی انقلاب کے شہید رہبر آیت اللہ امام خامنہ ای کے پاک و مطہر خون کی برکت، رہبرِ معظم انقلاب اسلامی اور کمانڈر اِن چیف آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی تدابیر اور محاذوں پر اسلام کے مجاہدین کی قربانیوں، خصوصاً جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی آپ عظیم ملت کی تاریخی، پائیدار اور حماسی موجودگی کے نتیجے میں ایران نے ایک عظیم فتح حاصل کی ہے اور مجرم امریکہ کو اپنے 10 نکاتی منصوبے کو قبول کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اس کامیابی پر تمام ایرانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور تاکید کرتے ہیں کہ اس فتح کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے تک، ذمہ داران کی دانشمندی اور ایرانی قوم کے اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ بیان کے مطابق ایران نے لبنان، عراق، یمن اور مقبوضہ فلسطین میں بہادر مجاہدینِ مزاحمت کے ساتھ مل کر گزشتہ 40 دنوں میں دشمن کو ایسے ضربات پہنچائے ہیں جنہیں دنیا کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔