وینزویلا پر حملہ کر اس کے صدر کو گرفتار کرنے اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے بعد بھی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جنگ کا جنون ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ پیر (16 مارچ) کو ایک پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے بائیں بازو کے ملک کیوبا پر بھی حملے کے اپنے منصوبے کو منظر عام پر لا دیا۔ دراصل امریکہ کی جانب سے کیوبا کی ناکہ بندی کی گئی ہے، جس کے سبب وہاں تیل نہیں پہنچ پا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیوبا میں پاور گرڈ بری طرح متاثر ہے اور بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے کیوبا کا بیشتر حصہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا ماننا ہے کہ کیوبا پر قبضے کا اعزاز میں ہی حاصل کروں گا اور کیوبا پر قبضہ کرنا یا اسے آزاد کرانا یہ ایک بڑا اعزاز ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’میں کیوبا کو آزاد بھی کرا سکتا ہوں اور اس پر قبضہ بھی کر سکتا ہوں۔ میں اس کے ساتھ جو چاہوں وہ کر سکتا ہوں۔ کیوبا اس وقت بہت کمزور حالت میں ہے۔‘‘
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ کیوبا پر اقتصادی دباؤ بنایا جا رہا ہے تاکہ کیوبا کو معاشی طور پر امریکہ پر منحصر کیا جا سکے۔ گزشتہ 67 سالوں کے یک جماعتی اقتدار میں کیوبا پہلی بار اس قدر شدید دباؤ میں نظر آ رہا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کیوبا کے صدر کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کیوبا کے بحران کا آغاز رواں سال 3 جنوری کو ہوا، جب کیوبا کے اتحادی ملک وینزویلا کے صدر نکلوس مادورو کو امریکہ نے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ امریکہ نے حملہ کر مادورو کو گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد کیوبا کی بھی ناکہ بندی کر دی گئی، جس کی وجہ سے کیوبا میں تیل کی سپلائی متاثر ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کیوبا امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور یہ معاہدہ ایران جنگ کے بعد ہو سکتا ہے۔