واشنگٹن، 20 جنوری (یو این آئی) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ڈنمارک اپنے نیم خودمختار علاقے 'گرین لینڈ' کا مناسب تحفظ نہیں کرسکتا لہٰذاڈاوس عالمی اقتصادی فورم کے دوران اس معاملے پر بین الاقوامی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں گے۔
پیر کے روز صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں ڈاوس اجلاس میں شریک یورپی سربراہان کے ممکنہ ردعمل سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ "مجھے نہیں لگتا کہ وہ مخالفت کریں گے۔ ہمیں گرین لینڈ حاصل کرنا ہوگا۔ وہ اس کا تحفظ نہیں کرسکتے، ڈنمارک کے لوگ بہت اچھے لوگ ہیں"۔
ڈنمارک اور اس کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہے کہ "میں جانتا ہوں کہ ڈنمارک کے رہنما بہت اچھے لوگ ہیں لیکن وہ خود وہاں جاتے بھی نہیں ہیں"۔
ٹرمپ نے کہا ہےکہ پیر کو شروع ہونے والے عالمی اقتصادی فورم میں شریک رہنماؤں کے ساتھ گرین لینڈ کے بارے میں گفتگو ہوگی ۔ہم مختلف لوگوں کے ساتھ اس معاملے پر بات کریں گے"۔
ٹرمپ نے ان سربراہان کی نشاندہی نہیں کی جن کے ساتھ وہ مسئلہ گرین لینڈ پر بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ "گرین لینڈ بہت اہم ہے"۔
انہوں نے سلامتی کے طویل المدتی خدشات کی طرف اشارہ کیا اور کہا ہےکہ" نیٹو کچھ نہیں تو 25 سالوں سے ڈنمارک کو اس خطے میں ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کر رہا ہے۔روس علاقے میں ایک خطرہ ہے اور چین بھی آرکٹک علاقے میں ایک اسٹریٹجک چیلنج کی حیثیت رکھتاہے۔لہٰذا ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔ لیکن اس قدر کہہ دوں کہ یہ ڈاؤس بہت دلچسپ ہونے والا ہے"۔
بعد ازاں، ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل سے ایک تصویر شائع کی ہے جس میں وہ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ امریکی پرچم تھامے ہوئے دِکھائی دے رہے ہیں۔ یہ تصویر، 2026 کے دوران، کسی بھی وقت گرین لینڈ کے امریکہ کا حصہ بن سکنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
این بی سی نیوز کے ساتھ مختصر ٹیلیفونک گفتگو میں گرین لینڈ پر قبضے کے دوران طاقت کے استعمال سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا"۔
اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے گرین لینڈ کے سلسلے میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رٹ کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کی ہے جو بہت موئثر رہی ہے۔
ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ "میں نے سوئٹزرلینڈ میں جاری ڈاؤس اجلاس کے دوران مختلف فریقین کی ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔ جیسا کہ میں نے سب کو بہت واضح الفاظ میں کہ رکھا ہے کہ گرین لینڈ قومی اور عالمی سلامتی کے لیےنہایت ضروری ہے۔ اس معاملے پر پیچھے ہٹنا ممکن نہیں ہے ۔ اس بات پر سب متّفق ہیں"۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اپنی قومی سلامتی اور آرکٹک میں اپنے حریفوں کے عمل دخل کو روکنے کے لیے امریکہ کا گرین لینڈ حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے گرین لینڈ پر امریکی قبضے کے مخالف یورپی اتحادیوں کو محصولات کی دھمکی دی اور علاقے میں معمولی تعداد میں فوج بھی بھیج دی ہے۔
تاہم ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں نے اس علاقے کو فروخت کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر چُکے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔