سری لنکا میں طوفان سے ہونے والی تباہی کے بعد بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کے مقصد سے ہندوستانی فوج کی جانب سے جاری آپریشن ساگر بندھو کے تحت اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہندوستانی فوج کے انجینئروں نے کلینوچی، جافنا میں اہم ڈبل لین بیلی پل کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے کے بعد اب کینڈی کے کے ایم-21 علاقے میں سو فٹ طویل بیلی پل کی تعمیر کے لیے عملی کام شروع کر دیا ہے۔
اس منصوبے سے بی-492 ہائی وے پر منقطع رابطہ بحال ہونے کی توقع ہے، جس سے روزمرہ آمد و رفت میں نمایاں بہتری آئے گی اور مقامی لوگوں کو فوری راحت ملے گی۔
اس دوران میجر جنرل روہن میداگوڈا، جنرل آفیسر کمانڈنگ گیارہویں ڈویژن، اور بریگیڈیئر سی ڈی وکرم نائیکا، سری لنکائی فوج کے فیلڈ چیف انجینئر نے پل کی تعمیر گاہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے طوفان دِتواہ سے متاثرہ علاقوں میں راحت و بچاؤ کے کاموں میں ہندوستانی فوج کے کردار کی تعریف کی اور سری لنکا کی مدد کے لیے دیے جانے والے تعاون کو قابل قدر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات میں مشترکہ کوششیں نہ صرف بحالی کے عمل کو تیز کرتی ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔
ہندوستانی فوج کی انجینئر ٹاسک فورس کولمبو سے تقریباً ساٹھ کلومیٹر شمال میں واقع چلاؤ کے علاقے میں بھی سرگرم ہے، جہاں وہ سری لنکا روڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ مل کر ہائبرڈ بَیلی پل کے لانچ سے قبل ضروری تیاریوں میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ یہ پل بھی علاقائی رابطے اور نقل و حرکت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور تجارت، تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی کو آسان بنائے گا۔
ہندوستانی فوج کے مطابق، یہ اقدامات انسانی ہمدردی، علاقائی تعاون اور ہندوستان کی پڑوسی پہلے کی پالیسی کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ مشکل جغرافیائی اور موسمی حالات کے باوجود انجینئرنگ ٹیموں نے مقامی اداروں کے ساتھ قریبی تال میل کے ذریعے چیلنجنگ اہداف حاصل کیے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور شراکت داری مزید مستحکم ہو رہی ہے۔