سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے اتر پردیش میں کانسٹیبل عہدوں کے لیے جاری بھرتی میں عمر کی حد بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے یوگی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی لاپرواہی، بار بار تاخیر اور بدنظمی کے باعث ہزاروں نوجوان اوور ایج ہو گئے ہیں، جس کی سزا بے روزگار امیدواروں کو نہیں ملنی چاہیے۔
اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سماج وادی پارٹی پولیس کانسٹیبل بھرتی میں عمر کی حد بڑھانے کے مطالبے کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھرتی کے عمل میں مسلسل رکاوٹوں اور ناقص انتظامات کی وجہ سے امیدوار مقررہ عمر سے تجاوز کر چکے ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ عمر میں رعایت دے کر نوجوانوں کو نئے سال کا تحفہ دے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بی جے پی حکومت کے ناقص اور غیر منظم بھرتی نظام کا خمیازہ نوجوان کیوں بھگتیں؟ اکھلیش یادو کے مطابق نوجوانوں کا مستقبل ہی ملک کا مستقبل ہے، اور اگر روزگار کے مواقع میں ناانصافی ہوگی تو اس کے اثرات طویل مدت تک رہیں گے۔ انہوں نے ریاست کے تمام نوجوانوں کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کے باعزت مستقبل کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
ایس پی صدر نے اسی بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا کہ ریاست میں اقتدار کی سرپرستی میں جرائم پیشہ عناصر آزاد گھوم رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب محنتی نوجوان روزگار کے مواقع سے محروم ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو ترجیحات درست کرنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ یوپی پولیس ریکروٹمنٹ اینڈ پروموشن بورڈ نے حال ہی میں کانسٹیبل کی 32,679 آسامیوں پر بھرتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق مرد امیدواروں کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر 22 سال مقرر کی گئی ہے، جبکہ خواتین امیدواروں کے لیے یہ حد 25 سال رکھی گئی ہے۔ مرد امیدواروں کی عمر کی حد کم کیے جانے پر مختلف حلقوں میں شدید ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔
کانسٹیبل بھرتی کے خواہش مند امیدواروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھرتیوں میں بار بار تاخیر کے باعث وہ عمر کی حد عبور کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے اب درخواست دینے سے محروم ہیں۔ اسی پس منظر میں سیاسی اور سماجی سطح پر عمر کی حد میں اضافے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔