امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ اب تیسرے ہفتہ میں داخل ہوچکی ہے۔اس جنگ میں اب تک ہزاروں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔مالی نقصان ناقابل یقین حدتک بڑھ گیا ہے۔ اکیلے امریکہ کا فوجی خرچ ایک لاکھ کروڑ سے تجاوز کرگیا ہے۔عالمی تجارتی منڈیاں شدید دباؤ میں ہیں اور تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔خود ہمارے ملک میں رسوئی گیس کی قلت نے ہاہاکار مچارکھی ہے۔ایران کے نومنتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے گزشتہ جمعرات کو سرکاری ٹی وی پر نشر اپنے بیان میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند رکھے گا۔ انھوں نے خطہ کے ممالک کو خبردار کیا کہ وہ امریکی فوجی اڈے بند کریں ورنہ انھیں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت خلیجی ملکوں کویت، بحرین،متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب میں مختلف مقامات امریکہ کے19/فوجی اڈوں پہیں اور وہاں چالیس ہزار سے زیادہ امریکی فوجی موجود ہیں، جو اس وقت ایران کا سب سے بڑا نشانہ ہیں۔ ان فوجی اڈوں کا قیام 1991میں اس وقت عمل میں آیا تھا جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا تھا۔ ان کا بنیادی مقصد علاقہ میں امن اوراستحکام کا قیام تھا، مگر امریکہ نے ان فوجی اڈوں کے ذریعہ خلیجی ملکوں سے زیادہ اسرائیلی مفادات کا خیال رکھا اور اسی کانتیجہ ہے کہ آج یہ فوجی اڈے خلیجی ملکوں کی سلامتی کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ حالات اتنے زیادہ خراب ہیں کہ ان ملکوں کو اب ایٹمی حملے کا خوف ستارہا ہے اور ان خلیجی ملکوں نے ممکنہ ایٹمی حملے سے بچنے کی تیاری شروع کردی ہے۔
بحرین میں واقع ایک فارما لائزننگ ایجنٹ نے چنڈی گڑھ کی ایک دواساز کمپنی سے رابطہ قائم کرکے نیوکلیئر ایمرجنسی میں کام آنے والے پروشین بلیو کیپسول کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔ کمپنی سے پوچھا گیا ہے کہ کیاوہ ایک کروڑ کیپسول بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ دوسرا سوال یہ پوچھا گیا ہے کہ علاحدہ علاحدہ عمر والے لوگوں کو کتنی خوراک درکار ہوں گی؟ واضح رہے کہ یہ کیپسول ہندوستان کے دفاعی تحقیقی ادارے ’ ڈی آرڈی او‘ کی تکنیک پر مبنی ہے اور انسانی جسم میں ’ریڈیو ایکٹیو‘ عناصر کے اثرات کو کم کرتے ہیں۔ چنڈی گڑھ میں واقع کمپنی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ویشالی اگروال نے ہندی روزنامہ ’دینک بھاسکر‘ کی نامہ نگار آرتی اگنی ہوتری کو بتایا کہ’بات چیت جاری ہے اور ایجنٹ اپنے ملک کی وزارت صحت کے رابطے میں ہے۔اگر سودا طے ہو گیا تو دواؤں کی کھیپ بحرین، کویت، قطر اورجارڈن میں سپلائی ہوگی۔‘
‘ واضح رہے کہ اس سے قبل جون 2025میں بھی اسرائیل اور ایران کے درمیان مختصر مدتی جنگ کے بعد یہ مانگ سامنے آئی تھی، لیکن بارہ دنوں میں جنگ ختم ہونے کی وجہ سے بات چیت کی رفتار دھیمی پڑ گئی تھی۔لیکن اب جبکہ ایران نے اگلے چھ ماہ تک امریکہ اور اسرائیل سے جنگ جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے تو صورتحال خاصی نازک ہوگئی ہے اور اس کے ایٹمی جنگ میں بدلنے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی گزشتہ ہفتہ خبردار کیا تھا کہ”اس وقت جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا خطرہ دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے۔“ انھوں نے کہا تھا کہ ’دنیا میں امن کے خواب کو خطرہ ہے، عالمی رہنما کشیدگی میں کمی کے لیے اقدامات کریں۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ”عالمی تناؤ سے فوجی اخراجات بڑھ رہے ہیں۔ جدید ٹیکنا لوجی تنازعات کو مزید مہلک بنارہی ہے۔‘‘
اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ ایران پر مسلط کی گئی اسرائیل اور امریکہ کی جنگ سے سب سے بڑا خطرہ خلیج کی ان ریاستوں کو درپیش ہے جنھوں نے کبھی جنگ کا منہ تک نہیں دیکھا۔ لیکن اب ایک ایسی جنگ کا خوف سوار ہوگیا ہے، جس کا انھوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ حالانکہ وہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت میں براہ راست فریق نہیں ہیں، لیکن انھیں امریکہ کا اتحادی ہونے کی بھاری قیمت چکانی پڑرہی ہے۔انھیں اس بات کا بھی شدت سے احساس ہوگیا ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے انھوں نے اپنی سرزمین پر جو امریکی فوجی اڈے مہنگی قیمت دے کر قائم کروائے تھے وہ حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی مفادات کے لیے استعمال ہورہے ہیں اور امریکہ کو ان خلیجی ملکوں سے زیادہ اسرائیل کے تحفظ کی فکر لاحق ہے۔ ایران نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر اس پر حملہ کیا تو وہ خلیجی ملکوں میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ جیسے ہی ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکی جارحیت کا تانڈو شروع ہوا تو ایران نے اپنے دفاع میں جہاں ایک طرف اسرائیل پر تابڑتوڑ حملے کئے تو وہیں اس نے متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا۔ حالانکہ ایران نے اپنے خلیجی پڑوسیوں سے معافی مانگی ہے، لیکن ایران کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا اور وہ پہلے ہی اس کی وارننگ دے چکا تھا۔ یوں بھی یہ فوجی اڈے ایران کے خلاف اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے لیے استعمال ہورہے تھے۔
خلیج کی یہ ریاستیں جہاں راوی نے ہمیشہ چین ہی چین لکھا ہے، اب امریکہ کی والہانہ محبت میں ایک ایسے خطرے سے دوچار ہیں جو ہر وقت ان کے سروں پر منڈلارہا ہے۔ عیش وعشرت اور عیاشیوں میں گردن تک ڈوبی ہوئی ان ریاستوں کے باشندوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ انھیں کسی ایسی جنگ کا شکار بننا پڑے گا، جوان سے دن کا چین اور رات کی نیند چھین لے گی، مگر حقیقت یہی ہے کہ ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے نتیجے میں نہ صرف خلیج کی ان ریاستوں کی چولیں ہل گئی ہیں بلکہ ان کی معیشت بھی ہچکولے کھارہی ہے۔ دس دن کی جنگ میں ان ریاستوں کو ناقابل تلافی اقتصادی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈے انھیں ہرقسم کے حربی حملے سے محفوظ رکھنے کے لیے قائم کئے گئے تھے ، جن کے عوض یہ خلیجی ملک امریکہ کو لاکھوں ڈالر یومیہ ادا کرتے ہیں تاکہ اپنی تیل کی دولت کے ساتھ رات کو آرام کی نیند سوسکیں، لیکن اب جبکہ اسرائیل اورامریکہ نے مشترکہ طورپر ایران کو نشانہ بنایا ہے تو یہی فوجی اڈے خلیجی ملکوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گئے ہیں اور یہ خطرہ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ انھیں ایٹمی حملے کاخوف ستارہا ہے۔ اس مہلک اور تباہ کن حملے کا خطرہ کسی اور سے نہیں بلکہ اسرائیل کی طرف سے ہے، جس کے ساتھ ان خلیجی ملکوں کے ظاہری او ر خفیہ رابطے ہیں، لیکن اب جبکہ امریکہ اور اسرائیل دونوں ایران پر تھوپی گئی جنگ کی دلدل میں پھنس گئے ہیں اور انھیں وہاں اپنا ہدف حاصل نہیں ہوسکا ہے تو وہ ایران کو مٹانے کے لیے اس ایٹم بم کا بھی سہارا لے سکتے ہیں جو عام تباہی کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے اور جس سے ایران کو محروم کرنے کے لیے ہزار سازشیں رچی گئی ہیں۔اگر یہ جنگ ایٹمی مرحلہ میں داخل ہوئی تو اسرائیل سمیت پورا مشرق وسطیٰ مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔
ابھی تک مشرق وسطیٰ میں اسرائیل ہی ایسا ملک ہے جس کے پاس ایٹم بم ہیں اور اسی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کئی برس سے یورونیم افزودگی کررہا ہے اور اس میں اس نے بڑی کامیابی بھی حاصل کرلی تھی۔امریکہ نے گزشتہ سال قطر کی ثالثی میں مذاکرات کے ذریعہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی اور ایران بعض شرائط پر رضا مند بھی ہوگیا تھا، لیکن ایک ایسے وقت میں جب ایران اور امریکہ کے جوہری سائنسدانوں کے درمیان مذاکرت جاری تھے، اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردیا۔ جنگ اسی وقت شروع ہوگئی مگر ایران نے اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیا۔ اسرائیل میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں نے ایسی ہی تباہی مچائی جیسی کہ اس وقت مچ رہی ہے۔ بارہ دنوں کی جنگ کے بعد ہی اسرائیل گھٹنوں پر آگیا۔ اب بحرین کی ثالثی میں جینوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ مذاکرات جاری تھے۔ ان مذاکرات میں یوں تو اصل ایجنڈا ایران کا جوہری پروگرام تھا، لیکن اس کے ساتھ اسرائیل یہ بھی چاہتا تھا کہ ایران اپنے ان بیلسٹک میزائلوں کو بھی تباہ کردے جو اسرائیل میں تباہی مچاتے ہیں۔ یعنی ایران پوری طرح بے دست وپا ہوجائے۔دراصل اسرائیل کا دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کا مقابلہ کرنے میں اس وقت بھی ناکام تھا اور آج بھی یہ میزائل اسرائیل میں زبردست تباہی مچارہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے تیور نرم پڑگئے ہیں اور وہ جنگ جلد ختم کرنے کی باتیں کررہے ہیں، مگر ایرا ن نے اگلے چھ ماہ تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور اسرائیلی جارحیت کے باوجود ایران کے یورونیم ذخائر محفوظ ہیں۔ سابق خفیہ فوجی افسر ڈینی اسٹورینو کا کہنا ہے کہ”اگر ابھی جنگ ختم ہوئی تو ایران زیادہ تیزی کے ساتھ ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوجائے گا۔خلیجی ملکوں کو ایک اور خطرہ یہ ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو پناہ گزینوں کا بحران اور ملیشیا تشدد پورے خلیج میں عدم استحکام پیدا کردے گا۔ا س وقت خلیجی ملکوں کا بحران ایران سے زیادہ سنگین ہے۔