Jadid Khabar

بہار میں بی جے پی کو زبردست جھٹکا

Thumb

کسی نے درست ہی کہا ہے کہ غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے۔یہ کہاوت آج کل بی جے پی کے بڑبولے صدر جے پی نڈا پر پوری طرح صادق آرہی ہے۔انہوں نے خم ٹھونک کر کہا تھا کہ ”ہمارے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا،ہم ہی زندہ رہیں گے، تمام علاقائی پارٹیوں کا وجود ختم ہوجائے گا۔“یہ بیان انہوں نے اسی پٹنہ شہر میں دو ہفتے پہلے دیا تھا جہاں حال ہی میں ایک علاقائی پارٹی نے ان کے اقتدار کاسورج غروب کردیا ہے۔بہار کی دو علاقائی پارٹیوں جنتادل (یو)اور راشٹریہ جنتا دل نے ایک بار پھر اتحاد کرکے بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کردیا ہے۔نتیش کمار نے ایک بار پھر بی جے پی سے اتحاد توڑکر ’مہاگٹھ بندھن‘ سے ہاتھ ملالیا ہے۔انھوں نے آٹھویں بار بہار کے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھایا ہے۔ان کے ساتھ راشٹریہ جنتادل کے تیجسوی یادو بھی دوسری بار نائب وزیراعلیٰ بنے ہیں۔ اس طرح 2015 میں قایم ہونے والا وہ عظیم اتحاد جو2017 میں ٹوٹ گیا تھا، ایک بار پھر بہار میں بحال ہوگیا ہے۔اقتدار کی اس تبدیلی سے سے یقینا بی جے پی کو زبردست جھٹکا لگا ہے، کیونکہ نتیش کمار اور ان کی پارٹی جنتا دل (یو)کا شمار این ڈی اے کے کلیدی اتحادیوں میں ہوتا تھا۔ ان کے علاحدہ ہونے کے بعد اب کوئی قابل ذکر پارٹی این ڈی اے کا حصہ نہیں ہے۔
بہار میں ایک بار پھرعظیم اتحاد کی حکومت قایم ہونے سے کمزور طبقوں خاص طورپراو بی سی برادریوں، مسلمانوں اورپسماندہ ذاتوں میں جشن کا ماحول ہے۔اس طرح نتیش کمار اپنے اسی خاندان میں واپس آگئے ہیں،جہاں ان کی سیاسی پرورش وپرداخت ہوئی ہے۔ان کے نئے اتحادی وہی لوگ ہیں جن کے ساتھ انھوں نے 2015کے چناؤمیں کامیابی حاصل کرنے کے بعد سرکاربنائی تھی، لیکن 2017 میں وہ راشٹریہ جنتا دل کی نوخیز قیادت کی ناتجربہ کاریوں سے پریشان ہوکر بی جے پی خیمے میں چلے گئے تھے۔ حالانکہ ان کے اس عمل پر اس وقت زبردست تنقیدیں ہوئی تھیں اور اس قدم کو سیکولرازم کے ساتھ ایسے ہی’وشواس گھات‘قرار دیا گیا تھا، جیسا کہ آج بی جے پی ان پر بہار کے عوام کے ساتھ دغابازی کاالزام لگارہی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ جس بی جے پی نے سیکولرازم کے ساتھ ان کی بے وفائی پرجشن منایا تھا، وہ آج فرقہ پرستی سے ان کے منہ موڑنے پر واویلا مچارہی ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ بی جے پی کا وہ موقف درست تھا یا یہ درست ہے۔درحقیقت آج ہم جس دور میں زندہ ہیں وہاں نظریات سے زیادہ اقتدار کی ہوس کو اہمیت حاصل ہے۔ سیکولرازم کا نظریہ یوں بھی ہندوستانی سیاست میں اپنی معنویت کھوچکا ہے اور سبھی لوگ اقتدار کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، لیکن نہ جانے کیوں ہم جیسے سیکولردیوانوں کو لگتا ہے کہ یہی وہ نظریہ ہے جس میں اس ملک کی بقاء اور ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔ 
یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ بی جے پی بہار میں اب تک مجبوریوں کی سرکارچلاتی رہی ہے۔وہ ایک عرصہ سے بہار میں تن تنہا اپنی سرکار بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہے، لیکن اسے ابھی تک کامیابی نہیں ملی ہے۔نتیش کمار پچھلے 18/ سال سے بہار کی سیاست کا محور ہیں اوراتنے ہی عرصہ سے وہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر براجمان بھی ہیں۔ ان کا شمار ملک کے سنجیدہ سیاست دانوں میں ہوتا ہے۔ وہ بہار کے سیاسی امور پر اچھی گرفت بھی رکھتے ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی سے ان کی قربتوں نے ان کے سیاسی قد کو بڑھنے نہیں دیا،ورنہ ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ ان کا نام اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کے امیدوار کے طورپر پیش کیا جارہا تھا۔ ان کے حالیہ قدم کوبھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ نتیش کمار جنتا دل خاندان کے پرانے رکن ہیں۔وہ بنیادی طورپر جے پی(جے پرکاش نرائن) تحریک کے پروردہ ہیں اور ان کے ساتھیوں میں لالوپرسادیادو، رام ولاس پاسوان اور شردیادو جیسے لیڈر رہے ہیں۔ لالو کی بیماری اور پاسوان کی موت کے بعد اب اس فہرست میں نتیش ہی سیاست میں سرگرم ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نتیش کمار نے بہار میں بی جے پی کے ساتھ حکومت چلانے کے باوجود مسلمانوں سے رشتہ نہیں توڑا ہے اور وہاں سنگھی ایجنڈا نافذ نہیں ہونے دیاہے۔بی جے پی چاہتی تھی کہ وہ دیگر صوبوں کی طرح یہاں بھی من مانی کرے، لیکن نتیش کمار کے سامنے اس کی دال نہیں گلی۔اپنے مقصد میں ناکامی کے بعد بی جے پی بہار میں بھی مہاراشٹر جیسا کھیل کھیلنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس کا ثبوت جنتا دل (یو)کی اس میٹنگ میں پیش کیا گیا، جہاں بی جے پی سے اتحاد توڑنے کا فیصلہ ہوا۔ اس میٹنگ میں پیش کئے گئے بعض آڈیو پیغامات میں جنتا دل(یو) کے ممبران اسمبلی اور وزیروں کو پیسے کا لالچ دے کر توڑنے کی کوششوں کے ثبوت موجود ہیں۔اس سے قبل کہ بی جے پی اپنے کھیل میں کامیاب ہوتی نتیش کمار نے پانسہ پلٹ کر دوبارہ آرجے ڈی سے اتحاد کرلیا۔ اس اتحاد کی ایک اہم فریق کانگریس پارٹی بھی ہے، جسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے بی جے پی سرکار نے اپنے سارے گھوڑے کھول رکھے ہیں۔حالانکہ بہار میں کانگریس ممبران اسمبلی کی تعداد19ہے، لیکن قومی سیاست میں اس کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ نتیش کمار کے عظیم اتحاد میں شامل ہونے کا سب سے بڑا فائدہ کانگریس کو ہی ہوگا۔ کانگریس پڑوسی ریاست جھارکھنڈ میں بھی حکومت میں شریک ہے۔ اس وقت بی جے پی سرکار کی یہی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی طرح اپوزیشن کے وجود کو ختم کرکے چاروں طرف اپنا راج قایم کرلے۔
بی جے پی سرکارجس انداز میں اپوزیشن لیڈروں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے، اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے علاوہ کسی کا وجود برداشت نہیں کرنا چاہتی۔ان کارروائیوں کا ایک ہی پیغام ہے کہ ساری بدعنوانی اور بے ایمانی اپوزیشن لیڈروں میں ہے اور حکمراں جماعت پوری طرح دودھ کی دھلی ہوئی ہے، جبکہ بی جے پی میں بھی اتنے ہی بدعنوان لوگ موجود ہیں جتنے کہ اپوزیشن پارٹیوں میں ہیں، لیکن اپوزیشن لیڈروں پر شکنجہ اتنا سخت ہے کہ انھیں سراٹھاکر جینے کا موقع ہی نہیں دیا جارہا ہے۔ظلم وزیادتی کا بازار گرم ہے اور مخالف آوازوں کو جس انداز میں کچلا جارہا ہے، اس سے جمہوریت کی اہمیت ہی ختم ہوکر رہ گئی ہے۔
نتیش کمار کی عظیم اتحاد میں واپسی کو2024 کے عام انتخابات کے نقطہ نظر سے بھی اہم تسلیم کیا جارہاہے۔ عام خیال یہ ہے کہ نتیش کی صورت میں اپوزیشن کو وزیراعظم کے عہدے کے لیے ایک چہرہ مل گیا ہے۔ حالانکہ اس ریس میں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پہلے سے پیش پیش ہیں، جنھوں نے بنگال کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی تمام کوششوں کو ناکام کرتے ہوئے کامیابی کا پرچم لہرایا تھا۔اتنا ضرور ہے کہ نتیش کمار کی آمد سے اپوزیشن کو ایک نئی طاقت ملی ہے۔ این ڈی اے سے نتیش کمار کی علیحدگی بی جے پی کے لیے ایک زبردست جھٹکا ہے،کیونکہ اس نے اپنا ایک اہم حلیف اور ہندی بیلٹ کا ایک اہم صوبہ اپوزیشن کے ہاتھوں گنوا دیا ہے۔ ظاہر ہے اس تبدیلی کے2024 کے عام انتخابات پر زبردست اثرات مرتب ہوں گے۔سبھی جانتے ہیں کہ یہ انتخابات اپوزیشن کے لیے ’کرویا مرو‘ کی طرح ہیں۔فی الحال بہار میں بی جے پی کو جو ہر سمت اٹھانی پڑی ہے اس سے اپوزیشن کے حلقوں میں خوشی کا ماحول ہے اور وہ اپنے اندر ایک نئی توانائی محسوس کررہے ہیں۔

 

Ads