لکھنؤ، 17 اکتوبر (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے آئندہ اسمبلی انتخابات سے پہلے پارٹی کے خلاف مبینہ طور پر چلائے جا رہے فرضی سروے اور سوشل میڈیا پروپیگنڈے پر سخت تنقید کی ہے۔
محترمہ مایاوتی نے الزام لگایا کہ ذات پات کے حامی میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دولت کے زور پر بی ایس پی کو کمزور دکھانے اور لوگوں کی توجہ ہٹانے والا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ مایاوتی کے مطابق، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور پنجاب میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے بی ایس پی اچھے اور مضبوط امیدواروں کے انتخاب کے ساتھ تنظیمی اور زمینی تیاریوں میں مصروف ہے۔ اسی دوران پارٹی کو نشانہ بنا کر مبینہ فرضی سروے اور جائزوں کی تشہیر کیا جانا بدقسمتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران بی ایس پی کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے پارٹی کی پوزیشن کو کم کر کے دکھانے کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ انہوں نے 2007 کے اتر پردیش اسمبلی انتخاب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی بی ایس پی کو لے کر اسی طرح کے دعوے کیے جا رہے تھے، لیکن پارٹی نے مکمل اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی تھی۔ انہوں نے اپنی مدت کار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی حکومت نے 'قانون کے ذریعے قانون کی حکمرانی' قائم کرنے اور 'سروجن ہتائے، سروجن سکھائے' کے جذبے کے مطابق کام کرنے کی کوشش کی تھی۔
محترمہ مایاوتی نے بی ایس پی کے حامیوں اور بالخصوص بہوجن سماج سے اپیل کی کہ وہ مخالف جماعتوں اور مبینہ ذات پات پرست عناصر کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے وقت سام، دام، ڈنڈ اور بھید جیسے ہتھکنڈوں کے ذریعے ووٹروں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ بسپا سربراہ نے کارکنان سے پارٹی کو مضبوط کرنے اور آئندہ انتخابات میں پوری طاقت کے ساتھ جٹ جانے کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ اے ایس پی نے حالیہ دنوں میں اتر پردیش کے ساتھ ساتھ اتراکھنڈ اور پنجاب میں بھی تنظیم اور انتخابی تیاریوں کا جائزہ تیز کر دیا ہے۔ 4 اکتوبر کو مایاوتی نے اتراکھنڈ کے سینئر پارٹی عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کر کے ووٹر لسٹ، ایس آئی آر کے بعد کی صورتحال، امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی تیاریوں کا جائزہ لیا تھا۔
اتر پردیش میں بھی پارٹی امیدواروں کے انتخاب کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔ حالیہ رپورٹوں کے مطابق بی ایس پی نے کئی نشستوں پر امیدواروں کے انتخاب کا عمل مکمل کر لیا ہے اور انتخابات سے کافی پہلے امیدوار طے کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ مایاوتی کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب 2027 کے اسمبلی انتخابات کو لے کر مختلف میڈیا اداروں اور سروے ایجنسیوں کے اندازے سامنے آ رہے ہیں۔