نئی دہلی، 17 اکتوبر (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک میں 'ووٹ چوری' کروائی جا رہی ہے، اس لیے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر سرکاری گواہ بن جانا چاہئے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز اپنے پوڈ کاسٹ میں امتحانات میں تاخیر، تعینیاتیوں میں رکاوٹ اور بنیادی سہولیات کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے ایسے مسائل پر جوابدہی طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران اندور، ناسک، بالاگھاٹ اور دہلی میں 'چھاتروں کی گونج' پروگرام کے دوران حاصل ہونے والے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کے سوالات موجودہ نظام کو چیلنج کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستہ افراد نے ملک کے اداروں پر قبضہ کر رکھا ہے، اور آدیواسی نیز پسماندہ طبقات کے طلباء کو ملنے والی سہولیات میں کٹوتیاں کی جا رہی ہیں، اس لیے ان معاملات میں حکومت کی طرف سے جوابدہی طے ہونی چاہئے۔
مسٹر گاندھی نے اس پوڈ کاسٹ میں مہاراشٹر کے ناسک میں احتجاج کرنے والے آدیواسی طلباء، مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلباء، اور مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں غذائی قلت اور بیماریوں کی وجہ سے اپنے بچوں کو کھو دینے والے آدیواسی خاندانوں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بالاگھاٹ میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی ) کے لیے 27 فیصد ریزرویشن کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا اور بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں وزیرِ اعلیٰ موہن یادو کو خط بھی لکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی کے بیلا اسٹیٹ کی جھگی بستی میں 'خصوصی تفصیلی نظر ثانی' (ایس آئی آر کے بعد 729 رہائشیوں میں سے 728 کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے۔ اسے ووٹنگ کے حق کی خلاف ورزی کا ایک سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو استعفیٰ دے کر سرکاری گواہ بن جانا چاہئے۔
ووٹ چوری کو آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے مسٹر گاندھی نے 30 ستمبر کو یہاں انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس میں ہر ہندوستانی شہری کے ووٹ دینے کے حق کی حفاظت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا ہے۔
انہوں نے امتحانات میں تاخیر، تعینیاتیوں میں رکاوٹ اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل کے ساتھ ساتھ دہلی کے ستیہ نیکیتن کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے اور ان تمام معاملات میں جوابدہی طے کی جانی چاہئے۔ انہوں نے اسے تعلیمی بجٹ میں کمی اور ہاسٹلوں کی قلت قرار دیا۔