پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) میں گزشتہ 4 ماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان راولاکوٹ میں پاکستانی سیکورٹی فورسز نے جمعرات (5 نومبر) کو سخت کارروائی کی۔ رپورٹس کے مطابق پاکستانی رینجرز اور فرنٹیئر کارپس (ایف سی) نے مقامی پولیس کے ساتھ مل کر جمعرات کی صبح احتجاجی مقامات کو خالی کرانے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ اس دوران فائرنگ اور ڈرون کے ذریعے بمباری کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس کارروائی میں 5 افراد کے جاں بحق ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 7 جون سے جاری پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 151 ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع رپورٹ کے مطابق پاکستانی سیکورٹی فورسز نے جمعرات کی صبح تقریباً 8 بجے فجر کی نماز کے بعد راولاکوٹ بس ٹرمینل سے آپریشن شروع کیا۔ یہاں 9 جون سے 5 ہزار سے زائد مقامی لوگ 38 مطالبات کو لے کر دھرنے پر بیٹھے تھے۔ مظاہرین پاکستانی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ احتجاجی مقامات خالی کرانے کے دوران سیکورٹی فورسز نے اندھا دھند فائرنگ کی۔
فائرنگ کے ساتھ ڈرون کے ذریعے بمباری کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس میں وسیم شکیل نامی ایک مقامی شخص کا مکان بری طرح متاثر ہو گیا۔ سامنے آنے والی تصاویر میں مکان میں آگ لگنے اور اس کے جلنے کے مناظر دکھائی دینے کی بات کہی گئی ہے۔ پی او جے کے میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے ڈرون حملے کا یہ دوسرا واقعہ بتایا جا رہا ہے۔
اس سے قبل 29 اکتوبر کو باغ میں ایک مکان پر پاکستانی فوج کی جانب سے ڈرون حملہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ اس حملے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد کی موت ہوئی تھی۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ راولاکوٹ بس ٹرمینل پر کارروائی کے بعد سیکورٹی فورسز کا قبضہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب عمر فاروق چوک پر بھی وقفے وقفے سے فائرنگ ہوئی۔ یہاں جولائی سے 20 ہزار سے زائد لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔
موقع پر موجود لوگوں نے پاکستانی سیکورٹی فورسز کی فائرنگ اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی ہے۔ عمر فاروق چوک پر موجود خواتین بھی احتجاج جاری رکھنے کی بات کہہ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کتنی بھی فائرنگ ہو جائے، مظاہرین چوک سے نہیں ہٹیں گے۔ اس دوران راولاکوٹ کی مساجد سے لوگوں سے عمر فاروق چوک پہنچنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ ایسے میں علاقے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔