Jadid Khabar

’احتجاج والی جگہ پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا‘، جنتر منتر معاملہ پر سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت کا تبصرہ

Thumb

دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر پولیس کی کارروائی کو چیلنج کرتے ہوئے کئی عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ آج ان عرضیوں پر سماعت ہوئی کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ کوئی بھی شخص یا تنظیم کسی احتجاجی مقام پر مستقل طور پر قبضہ نہیں کر سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے واضح لفظوں میں کہا کہ کسانوں، صحافیوں سمیت ہر کسی کو احتجاج کرنے کا حق ہے، لیکن اس کے لیے وقت کی حد مقرر ہونی چاہیے۔ کوئی گروپ صرف اس لیے کسی عوامی مقام پر دوسروں کی آمد و رفت نہیں روک سکتا کہ وہاں اس کا احتجاج جاری ہے۔

دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج اور پولیس کی کارروائی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ جنتر منتر ایک عوامی سڑک ہے، احتجاجی مقام نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کی اجازت صرف ایک دن کے لیے دی گئی تھی، لیکن مظاہرین 17 دنوں تک وہاں ڈٹے رہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطلع کیا کہ مظاہرین نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا تھا۔ بغیر اجازت کسی کو پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ احتجاج کی اجازت دینے یا اسے مسترد کرنے کے حکم میں اس کی وجوہات واضح طور پر بتائی جانی چاہئیں۔
اس معاملہ میں سینئر وکیل مکل روہتگی نے عدالت سے اگلے 2 ماہ تک دھرنے اور احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے لوگ خون بہا رہے ہیں۔‘‘ اس پر سینئر وکیل مینکا گروسوامی نے کہا کہ تقریباً 7 ہزار لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیا ایک جمہوریت کے طور پر ہمارا خون نہیں بہہ رہا ہے؟‘‘ جواب میں تشار مہتا نے کہا کہ لوگوں کو حراست میں نہیں لیا گیا تھا، بلکہ احتجاجی مقام سے ہٹایا گیا تھا۔
سماعت کے دوران وکیل پرشانت بھوشن نے احتجاجی مقامات پر کی جانے والی نگرانی اور اس کی قانونی بنیاد کے بارے میں معلومات طلب کیں۔ اس پر تشار مہتا نے سوال کیا کہ کسی عوامی مقام پر کسی شخص کو رازداری کا حق کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ سلامتی اور ناخوش گوار واقعات کو روکنے کے لیے احتجاجی مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جاتے ہیں۔ جسٹس جوئے مالیہ باگچی نے کہا کہ کسی عوامی مقام پر کسی شخص کا چہرہ کیمرے میں ریکارڈ ہو جانا بذات خود رازداری کے حق کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کسی عوامی مقام پر کھڑے شخص کو رازداری کی کتنی توقع ہو سکتی ہے؟ تشار مہتا نے کہا کہ ریاست کا جائز مفاد، رازداری کے حق سے مستثنیٰ ہونے کی ایک بنیاد ہے۔