Jadid Khabar

مدھیہ پردیش میں شراب مافیا کے ٹرک نے تھانہ انچارج دلیپ پوری کو کچل کر مار ڈالا

Thumb

مدھیہ پردیش کے دیواس ضلع میں پولیس کے ذریعہ فرائض کی انجام دہی کے دوران ایک دردناک حادثہ پیش آیا ہے۔ غیر قانونی شراب کے اسمگلروں کے خلاف کارروائی کرنے پہنچے کھاتے گاؤں تھانہ کے انچارج دلیپ پوری کی اسمگلروں کی گاڑی سے کچلے جانے کے باعث موت ہو گئی۔ اتوار کی دیر شب پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد پولیس محکمہ میں افرا تفری مچ گئی ہے۔ یہ پورا واقعہ اندور-بیتول شاہراہ کا ہے۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ علاقے سے غیر قانونی شراب کی اسمگلنگ کی جا رہی ہے، جس کے بعد تھانہ انچارج اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے تھے۔

شہید تھانہ انچارج دلیپ پوری بنیادی طور پر دھار ضلع کی سردارپور تحصیل کے تحت آنے والے چھوٹے سے گاؤں برمنڈل کے رہنے والے تھے۔ ان کا خاندان علاقہ میں کافی معزز سمجھا جاتا ہے۔ ان کے والد اوم پرکاش پوری ایک معزز کسان ہونے کے ساتھ ساتھ علاقہ کے سینئر کانگریس لیڈر بھی ہیں۔ اس کے باوجود دلیپ پوری نے سیاست کے بجائے پولیس کی وردی پہن کر عام لوگوں کی خدمت کرنے کا راستہ منتخب کیا۔ ان کے خاندان میں ان کے چھوٹے بھائی ہیں، جو اندور میں پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ اس واقعہ کی خبر ملتے ہی خاندان کے تمام افراد اور رشتہ دار ان کے آبائی گاؤں برمنڈل پہنچنے لگے۔
اتوار کی دیر شب تقریباً 1.30 بجے تھانہ انچارج دلیپ پوری کو اندور-بیتول شاہراہ پر غیر قانونی شراب کی اسمگلنگ کی پختہ اطلاع ملی تھی۔ اطلاع ملتے ہی وہ بلاتاخیر اپنی پولیس ٹیم کے ساتھ بتائی گئی جگہ پر پہنچ گئے۔ شاہراہ پر پولیس کو ڈیوائیڈر کے قریب ایک مشتبہ آئشر گاڑی کھڑی نظر آئی۔ تھانہ انچارج دلیپ پوری نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑی کے ڈرائیور کو نیچے اترنے کے لیے کہا۔ لیکن پولیس کو دیکھتے ہی اسمگلر گھبرا گیا اور اس نے گاڑی روکنے کے بجائے اسے ڈیوائیڈر پر چڑھاتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ اسی افراتفری میں آئشر گاڑی کا پچھلا پہیہ براہ راست تھانہ انچارج دلیپ پوری کے اوپر سے گزر گیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ گاڑی کی زد میں آنے سے تھانہ انچارج پوری شدید طور پر زخمی ہو گئے تھے۔ ان کے جسم پر کئی سنگین چوٹیں آئیں اور بہت زیادہ خون بہہ جانے کے باعث ان کی حالت نازک ہو گئی تھی۔ واقعہ کے فوراً بعد پولیس اہلکاروں نے انہیں تشویش ناک حالت میں قریبی اسپتال پہنچایا۔ ڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں بچانے کی پوری کوشش کی۔ تقریباً 2 گھنٹے تک مسلسل سی پی آر اور ہنگامی طبی امداد دی گئی، لیکن ان کی جان نہیں بچائی جا سکی۔
شہید تھانہ انچارج دلیپ پوری بنیادی طور پر دھار ضلع کی سردارپور تحصیل کے تحت آنے والے گاؤں برمنڈل کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد اوم پرکاش پوری ایک معروف کسان اور سینئر کانگریس لیڈر ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ دلیپ پوری نے سب انسپکٹر کے عہدے پر پولیس سروس میں شمولیت اختیار کی تھی اور اسکول کے زمانے سے ہی وہ کافی محنتی طبیعت کے مالک تھے۔ جیسے ہی یہ دل دہلا دینے والی خبر ان کے آبائی گاؤں برمنڈل پہنچی، پورے علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کا بھی رو رو کر برا حال ہے۔
پولیس ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق شہید تھانہ انچارج دلیپ پوری کی آخری رسومات ان کے آبائی گاؤں برمنڈل میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی جائیں گی۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران موقع پر موجود ہیں، جبکہ اسمگلروں کی گرفتاری کے لیے مزید تفتیش اور کارروائی تیزی سے کی جا رہی ہے۔