غازی آباد میں غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے ’گلموہر گرینز سوسائٹی‘ میں قوانین کے خلاف کی گئی تعمیرات پر کارروائی کا حکم دیا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق ٹاور نمبر 27 اور 28 کو مکمل طور سے منہدم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ٹاور نمبر 16، 17، 18 اور 19 کی نویں اور دسویں منزل کو منہدم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سماعت کے دوران تکمیلی سرٹیفکیٹ (کمپلیشن سرٹیفکیٹ) کے بغیر فلیٹوں پر قبضہ دیے جانے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا۔ عدالت نے اسے سنگین لاپرواہی قرار دیا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قوانین کے خلاف کی گئی تعمیرات کو بعد میں رعایت دے کر باقاعدہ (ریگولرائز) کرنے کے عمل کو منمانے طریقے سے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اسی سلسلے میں بلڈر کو راحت دینے والا تیسرا حکم بھی منسوخ کر دیا گیا۔ ساتھ ہی عدالت نے معاملے میں بلڈر پر 25 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔
مذکورہ معاملے میں ہائی کورٹ نے غازی آباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے افسران کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے جی دی اے کے نائب صدر اور متعلقہ لاپرواہ معائنہ کار کے خلاف محکمانہ کارروائی کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ اس سے غیر قانونی تعمیرات پر نگرانی اور افسران کی جوابدہی کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سرل شریواستو اور جسٹس سدھانشو چوہان کی ڈویژن بنچ نے یہ حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ سریش چندر و دیگر اور ریزیڈنٹس ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کے بعد آیا ہے۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔