’مخالفین سے بدلا لیا جا رہا‘، مشہور اداکار نصیرالدین شاہ نے بی جے پی کو بنایا تنقید کا نشانہ
مشہور و معروف اداکار نصیرالدین شاہ اپنے بے باک بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ ملک کے ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر بے باکی سے اپنی بات رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں وہ جین-زی تحریک کا بھی حصہ رہے، جس میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ اب اداکار نے بی جے پی پر کھل کر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’بنگال انتخابات میں دھوکہ دہی اور فریب سے حاصل ہونے والی جیت کے بعد، یہ بی جے پی، جو ایک جھوٹی پارٹی ہے، اب ان تمام لوگوں سے بدلہ لینے پر آمادہ ہے جو اس کے نظریات اور پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے۔‘‘
بالی ووڈ اداکار نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ ’’اس انتقامی جذبے کا تازہ شکار ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے طلبا اور مستقبل کے فلم ساز بنے ہیں۔ انتظامیہ سے جوابدہی کا مطالبہ کرنے کے بدلے انہیں وجہ بتاؤ نوٹس دیے گئے ہیں، ان پر نظر رکھی جا رہی ہے، انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور اب تو ان سے ہاسٹل خالی کرنے کے لیے بھی کہہ دیا گیا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’بی جے پی صرف اپنے حق میں بے شرمی سے پروپیگنڈا کرنے پر اکتفا نہیں کر رہی ہے، بلکہ اب وہ لوگوں کی ذہن سازی کر کے ان کا برین واش کرنا چاہتی ہے یا انہیں ڈرا دھمکا کر خاموش کرنا چاہتی ہے۔‘‘
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نصیرالدین شاہ نے طلبا کی حمایت کی ہو اور بی جے پی پر حملہ کیا ہو۔ اس سے قبل جولائی میں طلبا کی تحریک کے دوران بھی اداکار نے احتجاج کرنے والے طلبا کی حمایت کی تھی اور ان کے خلاف کی گئی کارروائی پر تنقید کی تھی۔ جولائی میں جین-زی کے ذریعہ ’چلو پارلیمنٹ‘ مارچ کے دوران کی گئی کارروائی کے خلاف نصیر الدین شاہ نے آواز اٹھائی تھی۔ انہوں نے مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی اور اس میں شامل لوگوں کا موازنہ امریکی آئی سی ای ایجنٹوں سے کیا۔ انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں انہوں نے نوجوان مظاہرین کے ساتھ کیے گئے سلوک پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے نوجوانوں سے متعلق ان کی امیدیں مزید مضبوط ہوئی ہیں۔ اُس وقت بھی نصیرالدین شاہ نے کہا تھا کہ ’’اگر کوئی جاہل شخص اس ملک کی قیادت کرتا ہے تو وہ یہی چاہے گا کہ پورا ملک بھی اسی کی طرح جاہل، ناسمجھ اور بے رحم بن جائے۔‘‘