Jadid Khabar

ٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں نرمی کا دفاع کیا، زیلنسکی پر سخت تنقید

Thumb

واشنگٹن، 19 اکتوبر (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے روس پر پابندیوں میں چھوٹ دینے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ماسکو کو مذاکرات کی میز پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ ختم کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر یہ تبصرہ روس پر متعدد پابندیوں کے نفاذ کو روکنے کے اپنے فیصلے پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کیا۔ یہ پابندیاں نافذ ہونے سے محض چند روز قبل روکی گئی تھیں۔
ٹرمپ نے کہا، ''روس کے بارے میں میرا فیصلہ بالکل سادہ ہے۔ میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کر رہا ہوں اور ایسی کوئی حماقت نہیں کرنا چاہتا جس سے روس مذاکرات کی میز سے دور ہو جائے۔''
اس فیصلے کے بعد گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ٹرمپ اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے درمیان سفارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
زیلنسکی نے اتوار کو امریکی ٹیلی ویژن چینل این بی سی کے پروگرام 'میٹ دی پریس' میں کہا کہ روس پر پابندیوں میں نرمی یوکرین کو نقصان پہنچائے گی اور اس سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جنگی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا، ''میرا اور پوتن کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ جارح ہے۔ اس نے ہمارے علاقوں پر قبضہ کیا، اس کے فوجیوں نے بالغوں اور بچوں کو ہلاک کیا۔ وہ دہشت گرد ہے، اسی لیے مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کریں گے۔''
ٹرمپ نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ زیلنسکی اپنے ملک میں جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ کیف حکومت روس میں ڈیزل صاف کرنے والی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنا رہی ہے، حالانکہ اسے معلوم ہے کہ اس سے عالمی ڈیزل مارکیٹ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ٹرمپ نے لکھا، ''زیلنسکی کو کوئی پروا نہیں ہے۔ یورپ کی جانب سے انہیں جو بھاری مالی امداد دی جا رہی ہے، اس کے باوجود وہ یہ جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے اور غالباً وہ کبھی ایسا چاہتے بھی نہیں تھے۔''
ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو روس سے 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ڈیزل امریکی اور عالمی منڈیوں کو فراہم کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا، تاکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پایا جا سکے۔ فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر دیا، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کی مجموعی توانائی برآمدات کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
روس کی توانائی کی برآمدات کو فروغ دینے کے ٹرمپ کے اقدام پر نہ صرف کیف بلکہ یورپی اتحادیوں اور متعدد امریکی حکام نے بھی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ماسکو کو فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ وہ یوکرین کے خلاف ساڑھے چار سال سے جاری جنگ میں مصروف ہے۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے بات چیت کی ہے۔ ان کے مطابق، دونوں ملکوں کی ٹیموں کے درمیان سفارتی کوششوں کے اگلے مراحل پر تقریباً مسلسل رابطہ جاری ہے۔
زیلنسکی نے لکھا، ''ہم اس عمل کو کامیاب بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کا مؤقف مضبوط ہو اور امن کے قیام میں مدد ملے۔ ایسا امن جس کا گزشتہ ساڑھے چار برس سے روس کے سوا ہر کوئی منتظر ہے۔''
زیلنسکی کی وٹکوف اور کشنر سے بات چیت ایسے وقت ہوئی ہے جب روس اور یوکرین ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ روسی حملوں کے باعث ہزاروں افراد بجلی سے محروم ہو گئے، جبکہ یوکرین نے جنگ شروع ہونے کے بعد روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ پر اپنا سب سے بڑا ڈرون حملہ کیا۔