لکھنؤ، 21 ستمبر (یو این آئی) اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے پیر کو افسران کو ہدایت دی کہ اضلاع میں چھوٹے سے چھوٹے واقعات پر بھی سنجیدگی سے نظر رکھیں اور اطلاع ملتے ہی انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران موقع پر پہنچ کر متاثرین کی سماعت یقینی بنائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی مسائل کے حل میں بے حسی اور لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے یہاں 'جنتا درشن' پروگرام میں مختلف اضلاع سے آئے لوگوں کے مسائل اور شکایات سننے کے بعد کہا کہ معاشرے میں دشمنی پھیلانے والے لوگ معمولی واقعات کو بڑا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ اپنے اپنے اضلاع میں چھوٹے سے چھوٹے واقعے پر نظر رکھیں۔ جائے وقوعہ پر پہنچ کر متاثرین کی بات سنیں اور قصورواروں کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے معاملات کا مقررہ وقت میں حل کرائیں۔
مسٹر یوگی نے جنتا درشن میں کرسیوں پر بیٹھے ہر فریادی سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔ انہوں نے انتظامیہ، پولیس، محصولات اور بجلی سمیت مختلف محکموں سے متعلق درخواستوں کا جائزہ لیتے ہوئے افسران کو حساسیت کے ساتھ عوامی شکایات کا مقررہ وقت میں ازالہ کرنے کی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ساڑھے 9 سال سے بغیر کسی امتیاز کے لوگوں کے مسائل حل کرانے کے لیے پابند عہد ہے۔ افسران کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اہل افراد کو عوامی فلاحی اسکیموں کا فائدہ ملے، ضرورت مند مریضوں کے علاج کا انتظام ہو اور زمین مافیا اور دبنگ لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
جنتا درشن میں پولیس اور محصولات سے متعلق شکایات زیادہ سامنے آنے پر وزیر اعلیٰ نے سخت رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے پولیس کمشنر، اے ڈی جی، آئی جی، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سطح کے افسران سے باقاعدگی سے عوامی معاملات کی سماعت اور ان کے ازالے کا انتظام یقینی بنانے کو کہا۔
انہوں نے ہدایت دی کہ اگر کسی ماتحت ملازم یا افسر کی سطح پر لاپروائی کی شکایت ملتی ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے محصولات اور نظم و قانون سے متعلق معاملات کو ترجیحی بنیاد پر جلد نمٹانے کی ہدایت دی۔
جنتا درشن کے دوران وزیر اعلیٰ کا ایک سادہ اور اپنائیت بھرا انداز بھی دیکھنے کو ملا۔ ماں کے ساتھ آئے ایک چھوٹے بچے سے انہوں نے اس کا حال چال پوچھا اور یہ بھی جانا کہ وہ کہاں پڑھتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بچے کی طرف چاکلیٹ بڑھائی تو اس نے فوراً لے لی۔ بعد میں جب وزیر اعلیٰ نے چاکلیٹ واپس مانگی تو بچے نے دینے سے انکار کردیا۔ اس پر وہاں موجود لوگ ہنس پڑے۔ انہوں نے بچے کو خوشگوار مستقبل کا آشیرواد دیتے ہوئے دل لگا کر پڑھائی کرنے کی نصیحت کی۔