عصمت دری معاملہ میں قصوروار ٹھہرائے گئے سینئر صحافی ترون تیج پال نے پیر کے روز گوا پولیس کے سامنے خود سپردگی کر دی۔ بعد ازاں انھیں کولوالے جیل بھیج دیا گیا۔ خود سپردگی کے بعد تیج پال نے کہا کہ وہ بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپنی قانونی لڑائی جاری رکھیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے ترون تیج پال کو 3 ہفتہ کے اندر خود سپردگی کرنے اور اس کا سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اسی حکم کی تعمیل میں تیج پال نے خود سپردگی کی۔ سپریم کورٹ نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو چیلنج کرنے والی ترون تیج پال کی اپیل پر سماعت کا راستہ بھی صاف کیا ہے، جس میں ہائی کورٹ نے انھیں عصمت دری معاملہ میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 10 سال کی بامشقت جیل کی سزا سنائی تھی۔
سپریم کورٹ کی بنچ نے اشارہ دیا ہے کہ اگر تیج پال مقررہ مدت کار کے اندر خود سپردگی کا سرٹیفکیٹ پیش کر دیتے ہیں تو ان کی اپیل کو 22 ستمبر کو فہرست بند کیا جا سکتا ہے۔ یعنی 22 ستمبر کو تیج پال کی عرضی پر سماعت ممکن ہے۔ تیج پال کی عرضی میں بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو چیلنج پیش کیا گیا ہے، جس کے تحت انھیں عصمت دری معاملہ کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔
دراصل بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے نومبر 2013 کے معاملہ میں 62 سالہ ترون تیج پال کو جونیئر رفیق کار کے ساتھ عصمت دری کا قصوروار مانا تھا۔ اس سے قبل 2021 میں گوا کی ذیلی عدالت نے انھیں بری کر دیا تھا، لیکن ہائی کورٹ نے اس پرانے فیصلہ کو پلٹ دیا۔ اب ترون تیج پال کی امیدیں سپریم کورٹ سے وابستہ ہیں۔ نومبر 2013 میں ترون تیج پال کی گرفتاری بھی عمل میں آئی تھی، حالانکہ ایک سال سے بھی کم وقت بعد سپریم کورٹ نے انھیں ضمانت دے دی تھی۔ اس کے بعد 2021 میں گوا سیشن کورٹ نے انھیں بری کر دیا۔ اس فیصلہ کے خلاف گوا حکومت نے بامبے ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔ ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد سیشن کورٹ کے فیصلہ کو پلٹتے ہوئے تیج پال کو قصوروار دیا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں گوا حکومت نے بھی سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ حکومت نے تیج پال کی سزا کو بڑھا کر عمر قید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔