نئی دہلی، 11 ستمبر (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ امریکہ میں ہند نژاد لوگوں کی مسلسل توہین ہو رہی ہے لیکن ان معاملات میں مودی حکومت خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ ہندوستانیوں کے مفادات اور وقار کی مضبوطی سے وکالت نہیں کر پا رہی ہے۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا ایکس پر لکھا کہ وزیراعظم نریندر مودی جن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا 'دوست' بتاتے رہے ہیں، ان کی انتظامیہ میں ہندوستانیوں اور ہند نژاد لوگوں کی مسلسل توہین ہو رہی ہے لیکن مودی حکومت اس پورے معاملے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے شعبہ (ڈی ایچ ایس) کے سرکاری ہینڈل سے 'مسٹر سنگھ' کو نشانہ بنا کر ایک قابلِ اعتراض پوسٹر جاری کیا گیا جس میں پگڑی پوش ہندوستانی کو 'ہماری سڑکوں سے ہٹ جاؤ، رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑ دو، ورنہ نتائج بھگتو' جیسی دھمکی دی گئی۔ اس کی جب امریکہ میں شدید مخالفت ہوئی تو اس کے بعد محکمہ کو یہ پوسٹ ہٹانی پڑی لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بعد میں بھی اس نے اپنے سرکاری پوسٹ کے ذریعے اس مہم اور اس کی زبان کا دفاع کیا ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ یہ صرف کسی ایک شخص یا برادری کی توہین نہیں، بلکہ تمام ہندوستانیوں کے وقار کی توہین ہے اور ایسی نسل پرستانہ ذہنیت اور سرکاری سطح کی بدتمیزی کا سخت جواب دیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ہندوستانیوں کو ہتھکڑیوں اور پیروں میں بیڑیوں کے ساتھ امریکی فوجی طیارے سے ہندوستان بھیجے جانے نیز امریکہ کی جانب سے ہندوستان پر یکطرفہ اضافی چارجز (ڈیوٹی) عائد کیے جانے کے معاملات میں مودی حکومت کا کردار سوالوں کے گھیرے میں رہا ہے۔
جے رام رمیش نے سوال کیا کہ 'وشو گرو' ہونے کا دعویٰ کرنے والی مودی حکومت کے دورِ اقتدار میں ہندوستان کی سفارتی طاقت اتنی کمزور کیوں ہو گئی ہے کہ ملک کے مفادات اور خودمختاری پر ایک کے بعد ایک حملے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی میں دوستی اہم ہے، لیکن قومی مفاد، ہندوستانیوں کا وقار اور ہندوستان کی خودمختاری سب سے مقدم ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔