نئی دہلی، 09 ستمبر (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ ذات پات پرمبنی مردم شماری کا مطلب صرف ذاتوں کی گنتی نہیں بلکہ سماجی انصاف کو یقینی بنانا ہے اور گنتی کے تعلق سے حکومت نے جو طریقہ اپنایا ہے، اس میں شدید خامیاں ہیں۔
کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس ' پر کہا کہ مودی حکومت کے ذات پات پر مبنی مردم شماری کے موجودہ فارمیٹ میں ڈراپ ڈاؤن فہرست کے بجائے کھلے سوالات رکھنا انتہائی سنگین خامی ہے۔ اس سے ایک ہی ذات کے مختلف نام، ذیلی ذاتیں اور املا درج ہو سکتے ہیں، جس سے ذات پات کی مردم شماری کا پورا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے 20 اگست کو وزیراعظم نریندر مودی کو لکھے گئے مشترکہ خط کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خط میں موجودہ سوالنامے کو منسوخ کر کے ذاتوں کی تصدیق شدہ فہرست کی بنیاد پر نیا سوالنامہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ خط میں نیا سوالنامہ تیار کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں، ماہرین اور عوام سے وسیع پیمانے پر مشاورت کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ تلنگانہ اور بہار کے ذات پات کے سروے کی طرح پہلے سے تیار کردہ اور تصدیق شدہ ذات پات کی فہرست کی بنیاد پر گنتی کو اس کا عملی حل بتایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کھرگے اور راہل گاندھی کے خط کا ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ کانگریس نے اس مسئلے پر گزشتہ چار دنوں میں ملک بھر میں 17 پریس کانفرنسیں کر کے درست طریقے سے ذات پات کی مردم شماری کرانے کے مطالبے کو دہرایا ہے۔ یواین آئی ایف اے