Jadid Khabar

انڈونیشیا کے بازار میں لگی خوفناک آگ، 6 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

Thumb

انڈونیشیا کے سنٹرل پاپوا علاقہ کے پانیائی واقع ایک بازار میں پیر کی علی الصبح خوفناک آگ لگ گئی۔ اس حادثہ میں کم از کم 11 لوگوں کی موت ہو گئی ہے، جن میں 6 بچے بھی شامل بتائے جا رہے ہیں۔ یہ آگ اس قدر تیزی کے ساتھ آس پاس کی دکانوں اور گھروں میں پھیلی کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں، جنھیں علاج کے لیے مقامی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس میں پولیس کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ فائر فائٹرس کی طرف سے فائر ٹرک اور واٹر کینن کے استعمال کے باوجود آگ تقریباً 3 گھنٹوں تک شدت کے ساتھ لہکتی رہی۔ خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق مقامی پولیس ترجمان ہنری جے مانورُنگ نے بتایا کہ افسران کو جائے وقوع کی جانچ کے دوران ایسے کئی لوگ ملے جو بری طرح جھلس گئے تھے۔ انھوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ مہلوکین میں 5 بالغ افراد اور 6 بچے شامل ہیں۔ جاں بحق بچوں کی عمر 2 سے 9 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہے۔
یہ آگ کیوں لگی، اس بارے میں فی الحال کچھ بھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ افسران تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ آگ کی وجہ پتہ کی جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس آگ کی زد میں علاقے کی مجموعی طور پر 40 عمارتیں آئی ہیں۔ بازار میں دکانیں اور کچھ رہائشی عمارتیں بھی ایک دوسرے سے بہت قریب بنی ہوئی تھیں، جس کی وجہ سے فائر فائٹرس کے لیے آگ پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔ ہنری نے بتایا کہ ’’آگ کی تیزی اور گھروں و اسٹالس کے ایک دوسرے سے بہت قریب ہونے کی وجہ سے آگ بجھانے میں کافی وقت لگا۔‘‘
پولیس عینی شاہدین سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے اور حالات کا جائزہ بھی لے رہی ہے۔ یہ پتہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ علی الصبح آگ لگنے جیسا واقعہ کیونکر پیش آیا۔ قابل ذکر ہے کہ انڈونیشیا پہلے بھی ایسے حادثات کا گواہ بنا ہے۔ دسمبر 2025 میں ایسی ہی آگ سنٹرل جکارتہ کے ایک 7 منزلہ دفتر میں لگی تھی۔ اس میں 22 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس نے تفتیش کے بعد بتایا تھا کہ گراؤنڈ فلور پر ڈرون بیٹری پھٹنے سے آگ لگی تھی۔ 2023 میں بھی ایسا ہی دردناک حادثہ مشرقی انڈونیشیا میں نکیل-پروسیسنگ پلانٹ میں پیش آیا تھا۔ اس وقت زوردار دھماکہ کے ساتھ لگی آگ کی زد میں آنے سے 12 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔