لکھنؤ، 27 اگست (یواین آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اتر پردیش حکومت کی جانب سے اگلے چھ ماہ میں ایک لاکھ نوجوانوں کو سرکاری نوکری دینے کے اعلان کو تاخیر سے اٹھایا گیا درست قدم قرار دیتے ہوئے، بھرتیاں شفاف اور بدعنوانی سے پاک طریقے سے وقت پر مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
محترمہ مایاوتی نے جمعرات کو 'ایکس' پر جاری ایک بیان میں کہا کہ حکومت کو درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے لیے ریزرو نشستوں کے بیک لاگ پر بھرتیوں کے بارے میں بھی اعلان کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ مدت میں تعیناتیاں مکمل کی جائیں تاکہ یہ قدم انتخابی دھوکہ ثابت نہ ہو۔
بی ایس پی سربراہ نے 69,000 اساتذہ کی بھرتی میں ریزرویشن کے قوانین کو لے کر احتجاج کرنے والے 6,800 امیدواروں کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ یہ امیدوار اپنی تعیناتی کے لیے مسلسل تحریک چلا رہے ہیں اور حکومت کو ان کے بارے میں پوری ہمدردی کے ساتھ غور کرنا چاہیے، کیونکہ انہیں حقیقی ریلیف حکومت ہی فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایس پی اتر پردیش سمیت پورے ملک میں اسکول کی تعلیم کے ابتر نظام کو مناسب طریقے سے بہتر بنانے کا مطالبہ مسلسل کرتی رہی ہے۔ حکومت کو سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر کرنے کرنے ساتھ ساتھ بند کیے گئے تقریباً 30 ہزار سرکاری اسکولوں کو دوبارہ بہتر ڈھنگ سے فعال کرنے کا بھی فوری بندوبست کرنا چاہیے۔
بی ایس پی صدر نے خواتین کے مسائل پر بھی حکومت سے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بزرگ خواتین کو بسوں میں مفت سفر جیسی سہولیات کے ساتھ ساتھ خواتین کو ہر شعبے میں استحصال، ظلم اور ہراسانی سے بچانے کے لیے موثر نظام ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ خواتین کی سلامتی، عزت اور خود انحصاری کو یقینی بنانے کے لیے حکومتوں کو درست نیت اور پالیسی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور نوجوانوں سے جڑے مسائل پر محض اعلانات کے بجائے ان پر وقت کی پابندی کے ساتھ مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔