مہاراشٹر کے ممبئی میں آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے مراٹھی زبان کا جاننا لازمی کیے جانے کے بعد کئی طرح کے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ لینگویج ٹیسٹ کے خلاف آٹو ڈرائیوروں کے ایک گروپ نے 3 دنوں کی ہڑتال شروع کر دی ہے، جس کا اثر ممبئی کی سڑکوں پر نظر بھی آنے لگا ہے۔ مسافروں کو آٹو اور ٹیکسی ملنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور تقریباً 40 منٹ انتظار کے بعد گاڑیاں مل رہی ہیں۔ در اصل ممبئی میں 21 اگست سے ’ریجنل ٹرانسپورٹ آفس‘ (آر ٹی او) کے افسران آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی مراٹھی زبان کے علم کی جانچ کر رہے ہیں۔ یہ جانچ جنوبی ممبئی سے لے کر مضافاتی علاقوں تک جاری ہے۔
جن ڈرائیوروں کو مراٹھی زبان کی معمولی جانکاری بھی نہیں ہے، انہیں میمو دیا جا رہا ہے، اس کے بعد انہیں مراٹھی سیکھنے کے لیے ایک مہینے کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر ایک مہینے کے بعد بھی ڈرائیور بنیادی نوعیت کی مراٹھی زبان نہیں سیکھ پاتا ہے تو اس کا ’بیج‘ 3 مہینوں کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے۔ یہ اصول و ضوابط آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ ساتھ ایپ پر مبنی ٹیکسی خدمات پر بھی نافذ ہیں۔ اس پورے معاملے پر ٹیکسی ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ انہیں مراٹھی سیکھنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے، ان کا احتجاج جانچ کے طریقۂ کار کو لے کر ہے۔ ڈرائیوروں کا الزام ہے کہ آر ٹی او آفیسر ایسے سوال پوچھ رہے ہیں، جو انہیں دی گئی ٹریننگ میں شامل ہی نہیں تھے۔
کاندیولی کے ٹیکسی ڈرائیور کسن یادو نے کہا کہ کئی ڈرائیور کم پڑھے لکھے ہیں، اور کچھ ڈرائیور نے بالکل بھی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے اتنے کم وقت میں نئی زبان سیکھنا مشکل ہے۔ ڈرائیوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مراٹھی کلاس جانے کی وجہ سے کمائی کا بھی نقصان ہوتا ہے، کیوں کہ کئی ڈرائیور یومیہ آمدنی پر منحصر ہیں۔ ایسے حالات میں کام چھوڑ کر کلاس کرنا آسان نہیں ہے۔ دوسری جانب مہاراشٹر حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اصول اچانک نہیں بنایا گیا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے کہا کہ مہاراشٹر میں 1989 سے مراٹھی کا علم ہونا شرط ہے۔ حالانکہ اس اصول کو سختی سے نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ اب اسے 2026 قوانین میں تبدیلی کے بعد نافذ کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے کہا کہ ’’حکومت ہندی بولنے والوں کو مراٹھی کا ماہر بنانا نہیں چاہتی، ڈرائیوروں کو صرف بنیادی نوعیت کی مراٹھی آنی چاہئے۔ تقریباً 1.65 لاکھ ڈرائیوروں کو مراٹھی کی ٹریننگ دی جا چکی ہے۔ انہیں سرٹیفکیٹ بھی دیے گئے ہیں۔‘‘ محکمۂ ٹرانسپورٹ کے مطابق پہلے دن پوری ریاست میں 8217 ڈرائیوروں کی جانچ ہوئی، ان میں 1268 ڈرائیوروں کو نوٹس دیا گیا۔ ممبئی میٹروپولیٹن علاقے میں 3995 ڈرائیوروں کی جانچ ہوئی، ان میں 604 ڈرائیور مراٹھی کا بنیادی علم نہیں رکھتے تھے۔ پورے مہاراشٹر میں تقریباً 9.65 لاکھ آٹو اور ٹیکسی ڈرائیور لائسنس یافتہ ہیں، جس کی وجہ سے ڈرائیور فکر مند ہیں۔
کاندیولی میں پیر کے روز آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے سڑک جام بھی کیا تھا۔ ڈرائیوروں نے اصول و ضوابط نفاذ کے دوران پریشان کرنے اور دھمکی دینے کا بھی الزام لگایا ہے۔ واضح رہے کہ ممبئی میں شدید بارش کی وجہ سے پہلے ہی ٹریفک نظام متاثر ہے، اور اب آٹو اور ٹیکسی کی قلت سے مسافروں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ انہیں مراٹھی سیکھنے سے اعتراض نہیں ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ زبانی ٹیسٹ پریکٹیکل ہو اور انہیں مناسب وقت بھی دیا جائے، تاکہ مراٹھی زبان سیکھی جاسکے اور مالی قلت کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے۔