پنجاب کے سابق نائب وزیر اعلیٰ سکھبیر سنگھ بادل پر جان لیوا حملہ کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مہاراشٹر کے ناندیڑ میں شرومنی اکالی دل کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ سکھبیر بادل کو ایک گردوارے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس واقعہ کے فوراً بعد انھیں علاج کی غرض سے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق ناندیڑ کے ماتا صاحب کور علاقہ میں موجود گرودوارہ میں ایک نہنگ نے دھاردار اسلحہ (جسے کرپان بتایا جا رہا ہے) سے حملہ کر دیا۔ اس حملہ میں سکھبیر بادل کے دائیں ہاتھ میں چوٹ آئی ہے۔ اس حملہ سے جائے وقوع پر تھوڑی دیر کے لیے افرا تفری مچ گئی، اور پھر فوراً ہی سکھبیر بادل کو قریب کے یشوسائی اسپتال لے جایا گیا۔ اس معاملہ میں پولیس نے ایک شخص کو حراست میں لے کر جانچ کی کارروائی شروع کر دی ہے۔
ناندیڑ کے ضلع مجسٹریٹ راہل کارڈیلے نے واقعہ کی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ سکھبیر سنگھ بادل ذاتی دورہ پر گرودوارہ پہنچے تھے۔ انھیں طے وقت کے مطابق پوری سیکورٹی دی گئی تھی۔ جب وہ گرودوارہ پہنچے تو اچانک ایک شخص گرودوارہ احاطہ میں داخل ہوا اور ان پر حملہ کر دیا۔ ضلع مجسٹریٹ نے سکھبیر بادل کو ہلکی چوٹیں آنے کی جانکاری دی ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ کو بچانے پہنچے پولیس انسپکٹر کو بھی ہلکی چوٹیں آئی ہیں۔
اس حملہ کے بعد جب سکھبیر بادل اسپتال پہنچے تو وہاں کچھ لوگوں نے ان کی ویڈیوز بنائیں، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ وہ ہاتھ پر کپڑا رکھ کر اسپتال میں داخل ہو رہے ہیں۔ حملہ کو واقعہ کے فوراً بعد ہی حراست میں لے لیا گیا۔ پولیس اس سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ سکھبیر بادل کی سیکورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب سکھبیر سنگھ بادل پر حملہ کیا گیا ہے۔ 4 دسمبر 2024 میں امرتسر واقع سورن مندر کے باہر بھی ان پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ ان پر گولی چلانے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ سکھ طبقہ میں ان کے خلاف کچھ ناراضگی بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہے، لیکن تازہ حملہ کیوں کیا گیا ہے، اس بارے میں فی الحال کچھ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔