Jadid Khabar

اداکار راجپال یادو کے خلاف کوٹھی پر قبضہ کرنے کی شکایت، سٹی مجسٹریٹ سے تحقیقات کا مطالبہ

Thumb

 
شاہجہاں پور: فلم اداکار راجپال یادو کی قانونی مشکلات کے درمیان اب شاہجہاں پور میں ان کی ایک کوٹھی کو لے کر نیا تنازعہ سامنے آیا ہے۔ وکرم کشواہا نام کے ایک شخص نے راجپال یادو پر کوٹھی قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ وکرم نے سٹی مجسٹریٹ کو درخواست دے کر پورے معاملے کی تحقیقات کرانے اور جائیداد کو قبضے سے آزاد کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ جس کوٹھی کو راجپال یادو اپنی ملکیت بتا رہے ہیں، وہ مجاہد آزادی پریم کرشن کھنہ کی جائیداد تھی اور بعد میں وصیت کی بنیاد پر یہ جائیداد وکرم کشواہا کے حصے میں آئی۔ وکرم کشواہا نے دعویٰ کیا کہ پریم کرشن کھنہ نے یہ جائیداد رادھا رمن سیٹھ سے خریدی تھی۔ پریم کرشن کھنہ کی کوئی اولاد نہیں تھی اور وکرم نے بچپن سے ان کی خدمت کی تھی۔
شکایت کنندہ کا دعویٰ ہے کہ پریم کرشن کھنہ نے اسے گود لیا تھا، جس کا گود نامہ بھی موجود ہے۔ 1982 میں پریم کرشن کھنہ نے وصیت کے ذریعہ اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد اس کے نام کر دی تھی۔ اسی بنیاد پر وہ خود کو پریم کرشن کھنہ کی جائیداد کا وارث بتا رہے ہیں۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ راجپال یادو نے اثر و رسوخ اور طاقت کے زور پر قبضہ کیا۔ انہوں نے انتظامیہ سے جائیداد سے متعلق پرانے کاغذات، میونسپل ریکارڈ اور دیگر ریکارڈ کی چھان بین کا مطالبہ کیا ہے۔ وکرم کشواہا کا دعویٰ ہے کہ آج بھی میونسپل کارپوریشن، میونسپل کونسل کے ریکارڈ میں پریم کرشنا کھنہ کے نام پر جائیداد کا اندراج ہے۔ اس کے علاوہ دیگر دستاویزات میں بھی مجاہد آزادی پریم کرشن کھنہ کا نام درج ہونے کا دعوی کیا گیا ہے۔
جائیداد سے متعلق تنازعہ پہلے سے ہی عدالتی سطح پر چل رہا ہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق اس معاملے پر شاہجہاں پور سے لے کر ہائی کورٹ تک قانونی کارروائی جاری ہے۔ یہ تنازعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے، جب راجپال یادو پہلے ہی چیک باؤنس کے معاملے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سینٹرل بینک آف انڈیا کی جانب سے ان کی کچھ جائیدادوں پر نیلامی سے متعلق نوٹس چسپاں کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ وکرم کشواہا کی جانب سے راجپال یادو پر عائد کیے گئے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ راجپال یادو کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اب انتظامی تحقیقات اور عدالت میں جاری کارروائی کے دوران سامنے آنے والے دستاویزات سے جائیداد کی ملکیت اور قبضے کی صورتحال واضح ہونے کی امید ہے۔