Jadid Khabar

طلبہ کے خلاف پولس کارروائی کی ذمہ داری امت شاہ قبول کریں: پرینکا گاندھی

Thumb

نئی دہلی، 05 اگست (یو این آئی) کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے بدھ کے روز مطالبہ کیا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ امتحانات سے متعلق مسائل پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف  ہونے والی پولیس کارروائی کی ذمہ داری قبول کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیر داخلہ عوام کے سامنے جواب دہ ہیں اور جمہوریت میں اپنی ذمہ داریوں سے بچ نہیں سکتے۔
 
مانسون اجلاس  کے دوران پارلیمنٹ کے احاطے میں اپوزیشن جماعتوں کے جاری احتجاج کے درمیان صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محترمہ پرینکا گاندھی نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کا عہدہ ملک کے شہریوں کے تئیں ذمہ داریوں کا حامل ہوتا ہے۔
 
انہوں نے کہا، "امت شاہ جس عہدے پر ہیں، اس عہدے کی عوام کے تئیں ذمہ داریاں ہیں۔ یہ ایک جمہوریت ہے، کسی کا راج دربار نہیں۔"
 
حالیہ ہفتوں میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کی مبینہ کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس رہنما نے حکام پر بے جا طاقت کے استعمال کا الزام لگایا اور کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ کو پولیس کی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
 
محترمہ پرینکا گاندھی نے کہا، "طالب علموں پر گولیاں چلائی گئیں، پیلٹ گن اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے نیز لاٹھی چارج کیا گیا۔ یہ سب کسی کے حکم پر ہی ہوا ہوگا۔ امت شاہ کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔"
 
ان کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن اور انڈیا الائنس کی دیگر جماعتوں نے نیٹ  - یو جی 2026  پیپر لیک اور امتحانات سے متعلق دیگر تنازعات کے خلاف احتجاج کرنے والے طالب علموں پر پولیس کے مبینہ تشدد پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
 
اپوزیشن مسلسل یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پولیس کارروائی پر پارلیمنٹ میں بیان دیں اور حکومت پر جمہوری احتجاج کو دبانے کا الزام بھی لگایا ہے۔ اس معاملے پر جاری مانسون سیشن کے دوران بار بار خلل پڑا ہے، اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ پارلیمنٹ کے احاطہ  میں مظاہرے کر رہے ہیں اور حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کر رہے ہیں۔
 
حکومت کا موقف ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صورتِ حال کے مطابق کارروائی کی ہے، جبکہ اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ تاہم کانگریس اور اس کے اتحادی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں، ان کا الزام ہے کہ جمہوری حق کے تحت احتجاج کرنے والے طالب علموں سے بات چیت کے بجائے ان پر طاقت کا استعمال کیا گیا۔