سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے کا بل لوک سبھا سے صوتی ووٹ کے ذریعے منظور
نئی دہلی، 3 اگست (یواین آئی) لوک سبھا نے سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کو مقررہ وقت میں نمٹانے کے مقصد سے ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق "سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل، 2026" کو پیر کے روز بغیر کسی بحث کے صوتی ووٹ (وائس ووٹ) سے منظور کر لیا۔
قانون و انصاف کے مملکتی وزیر (آزادانہ چارج) ارجن رام میگھوال نے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالتی اصلاحات کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ بل کے تحت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سمیت ججوں کی تعداد 34 سے بڑھا کر 38 کرنے کی تجویز ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے زیر التوا مقدمات کے جلد تصفیے میں مدد ملے گی اور بڑی آئینی بنچوں کی تشکیل سے مقدمات کی سماعت اور فیصلوں پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔
میگھوال نے بتایا کہ آئین کے نفاذ کے وقت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سمیت صرف 8 جج تھے۔ بعد میں ضرورت کے پیش نظر اگست 1956 میں اُس وقت کے وزیر داخلہ گووند بلبھ پنت ایک قانون لے کر آئے، جس کے ذریعے ججوں کی تعداد بڑھا کر 11 کر دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ زیر التوا مقدمات میں مسلسل اضافے اور دیگر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ججوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔
مرکزی وزیر کے مطابق رواں سال یکم جنوری تک سپریم کورٹ میں 92 ہزار 101 مقدمات زیر التوا تھے۔ انہوں نے کہا کہ جب بڑی آئینی بنچیں تشکیل دی جاتی ہیں تو ججوں کی تعداد کی کمی زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل سبری مالا مقدمے کی سماعت کے لیے 9 رکنی آئینی بنچ تشکیل دی گئی تھی، جس کے دوران مزید ججوں کی ضرورت محسوس ہوئی۔
میگھوال نے بتایا کہ 2019 سے سپریم کورٹ تقریباً اپنی مکمل منظور شدہ تعداد یعنی 34 ججوں کے ساتھ کام کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود 2025 کے دوران 75 ہزار 410 نئے مقدمات درج ہوئے، جبکہ صرف 65 ہزار 615 مقدمات کا ہی تصفیہ ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ نئے مقدمات کے اندراج اور ان کے تصفیے کے درمیان مسلسل بڑھتا ہوا فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خصوصاً پرانے مقدمات اور بڑی آئینی بنچوں کے سامنے زیر سماعت معاملات کے مؤثر انتظام میں اب بھی مشکلات موجود ہیں۔ ججوں کی تعداد میں اضافے سے زیر التوا مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور باقاعدگی سے آئینی بنچیں تشکیل دینے میں آسانی ہوگی۔
بل کے مالیاتی تخمینے کے مطابق سپریم کورٹ میں چار نئے ججوں کی تقرری سے ان کی تنخواہوں، عملے، سفری سہولیات اور دیگر اخراجات پر سالانہ تقریباً 10.57 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، جبکہ سرکاری گاڑیوں، رہائش گاہوں کی سجاوٹ اور دیگر بنیادی سہولیات پر تقریباً 3.47 کروڑ روپے کا ایک مرتبہ خرچ آئے گا۔
اس طرح چار نئے ججوں کی تقرری پر حکومت کو مجموعی طور پر تقریباً 14 کروڑ روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔