پاکستان: دہشت گردانہ حملے کے سبب جولائی میں 200 سے زائد سیکورٹی اہلکار جاں بحق
پاکستان میں دہشت گردانہ تشدد اور سیکورٹی فورسز پر حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستانی تھنک ٹینک، سیکورٹی ذرائع اور سرکاری بیانات کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صرف جولائی 2026 میں پاکستان کے فوجی اور سیکورٹی اداروں کے 200 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے۔ ان اموات میں دہشت گردانہ حملے، آپریشن کے دوران ہونے والی ہلاکتیں، ٹارگٹ کلنگ، ڈیوٹی سے باہر گھات لگا کر کیے گئے حملے اور بلوچستان میں ہونے والے دیگر پرتشدد واقعات شامل ہیں۔
’پاکستان سیکورٹی واچ‘ کے مطابق یکم جنوری سے یکم اگست 2026 تک پاکستان میں 760 سے زائد دہشت گردانہ اور عسکریت پسندانہ واقعات پیش آ چکے ہیں۔ صرف جولائی میں ہی 180 سے زائد حملے اور پرتشدد واقعات ہوئے، جن میں پاکستانی سیکورٹی ادارے کو نشانہ بنایا گیا۔ دعوے کے مطابق یکم جنوری سے 16 جولائی 2026 تک 820 سے زائد پاکستانی سیکورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ ’ڈی جی آئی ایس پی آر‘ کی ماہانہ بریفنگ میں بھی کہا گیا تھا کہ 2026 کے ابتدائی 7 مہینوں میں تقریباً 400 سے زائد پاکستانی فوج کے جوان جاں بحق ہوئے۔ دوسری جانب دیگر ذرائع کے اعداد و شمار کو ملا کر سیکورٹی فورسز کی مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 820 سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ اس میں جولائی میں مارے گئے 200 سے زائد سیکورٹی اہلکار بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ دہشت گردانہ اور دیگر پرتشدد واقعات میں پاکستان میں 600 سے زائد شہریوں کے مارے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس اعداد و شمار میں مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں مارے گئے لوگوں کو بھی شامل بتایا گیا ہے۔ اس درمیان مقبوضہ کشمیر میں بڑھتی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کا موجودہ ٹرینڈ جاری رہا تو رواں سال کے آخر تک پاکستانی فوج اور سیکورٹی اداروں کے 1600 سے 1700 اہلکاروں کے مارے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ غور طلب یہ ہے کہ 2025 میں پاکستانی سیکورٹی اداروں کے 1317 اہلکار جاں بحق ہوئے تھے، جسے 1971 کے بعد پاکستان کے لیے سب سے خونی سال بتایا گیا تھا۔