Jadid Khabar

پرہلاد جوشی پر پرینکا گاندھی کا دو ٹوک موقف، ’سچ بولنے پر سزا ملی تو بھی آواز اٹھاتی رہوں گی‘

Thumb

 
نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی سے متعلق اپنے بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایوان میں کوئی غیر پارلیمانی بات نہیں کہی بلکہ صرف سچ بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سچ بولنے کی وجہ سے انہیں سزا بھی دی جاتی ہے تو بھی وہ عوام کے مسائل پر اپنی آواز بلند کرتی رہیں گی۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ ان کے بیان کو کارروائی سے حذف کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے صرف ایک مخصوص واقعے کا نہیں بلکہ خواتین کے تئیں ذہنیت اور رویے کا معاملہ اٹھایا تھا۔
انہوں نے منگلورو کے ایک پب میں خواتین پر حملے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اس مقدمے سے وابستہ شخص کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں کس نے شامل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعد میں اسے پارٹی سے نکال دیا گیا، لیکن اس کی بی جے پی میں شمولیت کی تصاویر آج بھی موجود ہیں۔ پرینکا گاندھی نے زور دے کر کہا کہ خواتین کے احترام اور تحفظ سے متعلق سوال اٹھانا ہر عوامی نمائندے کی ذمہ داری ہے اور وہ آئندہ بھی ایسے معاملات پر بے خوف ہو کر بولتی رہیں گی۔
دریں اثنا، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے بھی کہا کہ امتحانی نظام جیسے اہم موضوع پر بحث ہو رہی ہے، لیکن نہ وزیر اعظم اور نہ ہی مرکزی وزیر داخلہ ایوان میں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ وزیر داخلہ ایوان میں آ کر جواب دیں، کیونکہ طلبہ اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر حکومت کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ گورو گوگوئی نے الزام لگایا کہ حکومت تعلیم سے متعلق بنیادی سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کے قائد راہل گاندھی بھی اس معاملے پر لوک سبھا میں اپنا موقف پیش کریں گے۔
وہیں، کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے کہا کہ صرف سخت سزاؤں کا قانون بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اصل ضرورت یہ ہے کہ پرچہ لیک ہونے جیسے واقعات کو ابتدا ہی میں روکنے کے لیے مضبوط انتظامی نظام قائم کیا جائے۔ ان کے مطابق اگر کسی نے طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کیا ہے تو اسے ضرور سزا ملنی چاہیے، تاہم قانون سازی کے ساتھ عدالتی اور انتظامی ڈھانچے کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔
ششی تھرور نے فاسٹ ٹریک عدالتوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام پہلے ہی غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2025 کے دوران فاسٹ ٹریک عدالتوں میں بڑی تعداد میں نئے مقدمات درج ہوئے، لیکن ان میں سے محدود معاملات ہی نمٹائے جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف قانون منظور کر دینا کافی نہیں، بلکہ انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے عدالتی وسائل اور صلاحیت میں اضافہ بھی ناگزیر ہے۔