نئی دہلی: نیٹ پیپر لیک معاملے میں جمعہ کو سپریم کورٹ میں ہونے والی اہم سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ قومی سطح کے امتحانات کے نظام کو زیادہ محفوظ، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت سے ان اصلاحات کا مکمل روڈ میپ طلب کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت 3 اگست کو مقرر کی ہے۔
سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ امتحانی نظام میں اصلاحات کے عمل کی نگرانی اعلیٰ ترین سطح پر کی جا رہی ہے اور حکومت جلد ہی اس سلسلے میں ایک تفصیلی حلف نامہ عدالت میں داخل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے لیے طلبہ کے مفادات سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور امتحانی نظام کو ہر ممکن طور پر محفوظ بنانے کے لیے سنجیدگی سے کام کیا جا رہا ہے۔
تشار مہتا نے بتایا کہ حکومت سوالیہ پرچوں کی طباعت سے لے کر انہیں امتحانی مراکز تک محفوظ طریقے سے پہنچانے اور امتحان کے انعقاد تک کے پورے عمل کی تفصیلات سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرے گی۔ ان کے مطابق، امتحانی نظام میں بہتری کے لیے قائم کردہ رادھا کرشنن کمیٹی کی تمام سفارشات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت اپنے حلف نامے میں کمپیوٹر پر مبنی امتحانی نظام، ڈیٹا سکیورٹی اور سائبر سکیورٹی سے متعلق تمام انتظامات کی تفصیلات بھی پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ بھی بتایا جائے گا کہ امتحانی عمل کو تکنیکی اعتبار سے مزید محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے کن اقدامات پر عمل کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نیٹ پیپر لیک: اپوزیشن رہنماؤں نے آئین ہند کی کاپیاں تھام کر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہرایا، متوفی طلبہ کو خراج عقیدت
تشار مہتا نے کہا کہ حکومت چند دنوں میں امتحانی اصلاحات اور مجوزہ تبدیلیوں سے متعلق مکمل صورتِ حال عدالت کے سامنے پیش کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت مستقبل کے امتحانات میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو روکنے کے لیے مضبوط اور مؤثر نظام وضع کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے یہ بھی دریافت کیا کہ آیا مستقبل میں نیٹ امتحان کو مکمل طور پر کمپیوٹر پر مبنی بنایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس امکان پر اپنا واضح مؤقف حلف نامے میں پیش کرے۔
یہ بھی پڑھیں : نیٹ پیپر لیک معاملہ: بی جے پی لیڈر مرلی منوہر جوشی نے کی طلبہ کی حمایت، کہا- ’خدشات حقیقی، حل تلاش کرے حکومت‘
عدالت نے امتحانی نظام سے متعلق ڈیٹا کے تحفظ اور سائبر سکیورٹی کے انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے۔ سپریم کورٹ نے دریافت کیا کہ امتحان سے متعلق حساس معلومات کی حفاظت کی ذمہ داری کس ادارے کے پاس ہوگی اور اس کی نگرانی کس طریقے سے کی جائے گی۔ عدالت نے حکومت سے ان تمام پہلوؤں پر تفصیلی اور واضح جواب طلب کیا ہے۔
نیٹ پیپر لیک معاملے کو ملک بھر کے لاکھوں طلبہ اور ان کے اہل خانہ سے جڑا ایک نہایت اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے حکومت سے امتحانی اصلاحات کے حوالے سے مکمل تفصیلات پیش کرنے کو کہا ہے۔ اب اس معاملے کی اگلی سماعت 3 اگست کو ہوگی، جس میں حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔