ایرانی اخبار نے 'انتقامی فہرست' جاری کر دی
ہران، 13 جولائی (یو این آئی) ایران کے ایک اخبار 'ہمشہری' نے آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مبینہ طور پر 'انتقامی اہداف' کی ایک فہرست شائع کی ہے جس میں کئی عالمی رہنماؤں کی تصاویر شامل ہیں۔
اخبار 'ہمشہری' کی جانب سے شائع کی گئی فہرست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تصاویر کو ٹارگٹ کے نشان کے ساتھ دکھایا گیا ہے جبکہ مزید 11 عالمی رہنماؤں کو نارنجی رنگ کے قیدی لباس میں پیش کیا گیا ہے۔
اس فہرست میں برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سمیت دیگر رہنما بھی شامل ہیں۔
یہ اشاعت ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کے بعد سامنے آئی ہے جنہوں نے اپنے والد آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد پہلی بار عوامی بیان دیا۔انہوں نے کہا کہ انتقام ہماری قوم کی خواہش ہے اور اسے لازمی طور پر پورا کیا جائے گا۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ جن مجرموں کے نام ایک فہرست میں شامل ہیں وہ پُرامن موت کی خواہش اپنے ساتھ قبروں میں لے جائیں گے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای جنگ سے پہلے منظرِ عام پر نہیں آئے تھے اور اطلاعات تھیں کہ وہ اسی حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد شہید ہوئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ہمشہری اخبار نے یہ بیان آن لائن فہرست کے ساتھ شائع کیا ہے، تاہم یہ فہرست اخبار کے ایڈیشن میں شامل نہیں کی گئی۔
واضح رہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے اس فہرست کی باضابطہ حمایت کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے منصوبے بنائے تھے۔امریکی حکام کے مطابق اسرائیل نے امریکہ کو صدر ٹرمپ کے خلاف ایک مخصوص سازش سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ خطرے کے باعث ٹرمپ نے ترکی میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرنس سے واپسی پر طیارہ تبدیل کیا، ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ میں ایران کی ہر فہرست میں شامل ہوں۔
ادھر خطے میں کشیدگی برقرار ہے، گزشتہ کے روز امریکا نے تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں تقریباً 140 اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ جہازوں نے مقررہ راستے سے متعلق انتباہ کو نظر انداز کیا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
آبنائے ہرمز سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل گزرتی ہے۔
ایرانی حکام نے امریکی حملوں کے بعد بحرین، کویت، قطر اور عمان سمیت کئی خلیجی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، قطر نے حملوں کو خطرناک کشیدگی قرار دیا جبکہ عمان نے بھی ان کی مذمت کی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے، وعدے پورے کریں یا قیمت ادا کریں، حقیقت دروازے پر دستک دے رہی ہے۔