بدعنوانی ، وصولی نظام میں بدل چکے تعلیمی نظام میں 'طلبہ کی گونج' لائے گی انقلاب: راہل
نئی دہلی، 13 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام بدعنوانی، وصولی اور جانبدار ہوکر طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے، اس لیے طلبہ کو اب متحد ہو کر لڑنا ہوگا تاکہ 'طلبہ کی گونج' مہم تعلیمی نظام میں انقلاب کا ذریعہ بنے۔
مسٹر گاندھی نے پیر کو سوشل میڈیا 'ایکس' پر ایک پیغام میں کہا کہ 'بدعنوانی ، ناانصافی، جانبداری اور بے ایمانی' جیسے الفاظ ان کے نہیں، بلکہ ملک کے طلبہ کے ہیں، جو آج کے تعلیمی نظام کی عکاسی کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لیے بنایا گیا تعلیمی نظام اب ایک 'بے ایمان وصولی نظام' میں بدل چکا ہے، جو طلبہ اور ان کے خاندانوں کو قرض، تناؤ اور مایوسی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں پھیلی بدعنوانی نے پیپر لیک مافیا کو جنم دیا ہے، جو لاکھوں طلبہ کی برسوں کی محنت ایک جھٹکے میں برباد کر دیتا ہے۔ ان کا الزام تھا کہ اس نظام میں قصوروار وینڈروں اور افسران کو کارروائی کے بجائے نئے ٹینڈر اور ترقیاں ملتی ہیں جبکہ سزا طلبہ بھگتتے ہیں اور انہیں ٹوٹے ہوئے خوابوں اور غیر یقینی مستقبل کے ساتھ چھوڑ دیا جاتا ہے۔
کانگریس رہنما نے کہا، "وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت اور مرکزی وزیر تعلیم اس پورے معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں نیز جواب دہی سے بچ رہے ہیں اور میڈیا بھی اس سنگین مسئلے پر خاموش ہے۔ اب بہت ہو چکا ہے اور تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔" انہوں نے طلبہ، نوجوانوں اور سرپرستوں سے 17 جولائی کو دہرادون میں منعقد ہونے والے 'طلبہ کی گونج' پروگرام میں بڑی تعداد میں شرکت کرکے تعلیمی نظام میں تبدیلی کی اس مہم کو مضبوط کرنے کی اپیل کی ہے۔