نئی دہلی، 09 جولائی (یو این آئی) کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا ہے کہ گلوان تصادم کے بعد سے حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ہندستان کا چین پر اقتصادی انحصار مسلسل بڑھا ہے اور اب چینی کمپنیوں کو سرکاری پروجیکٹوں میں بھی مواقع دیے جا رہے ہیں۔
مسٹر کھرگے نے جمعرات کو سوشل میڈیا 'ایکس' پر لکھا کہ گلوان میں 20 ہندستانی فوجیوں کی عظیم ترین قربانی کے چھ برس بعد بھی حکومت چین کے تئیں نرم رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ حکومت کے اس لچکدار رویے کی وجہ سے تجارت، دوا سازی کی صنعت، الیکٹرک گاڑیوں، شمسی توانائی اور دیگر تمام اسٹریٹجک شعبوں میں چین پر ملک کا انحصار بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت چین کے لیے مواقع کے سارے دروازے کھول رہی ہے اور ملک کے مفادات سے سمجھوتہ کر کے چینی کمپنیوں کو ملک میں کاروبار کرنے کے لیے فروغ دے رہی ہے۔
کانگریس صدر نے دعویٰ کیا کہ 26-2025 تک چین سے ہندستان کی درآمدات میں 101.81 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے تجارتی خسارہ 112.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اینٹی بائیوٹک، اے پی آئی، الیکٹرک گاڑیوں کے پرزوں، لیتھیم آئن بیٹریوں، میگنیٹ اور شمسی توانائی کے آلات کے لیے ضروری سلکان ویفر کے معاملے میں بھی ہندستان کافی حد تک چین پر منحصر ہے۔ مسٹر کھرگے نے یہ بھی الزام لگایا کہ مودی حکومت چین کے لیے مواقع کے سارے دروازے کھول کر قومی مفادات سے سمجھوتہ کر رہی ہے اور چینی کمپنیوں کو سرکاری بجلی پروجیکٹوں میں شرکت کا موقع دے کر ملک کے اہم شعبوں میں ان کی موجودگی بڑھانے کا راستہ کھول رہی ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اروناچل پردیش اور لداخ میں چین کی سرگرمیاں اور قومی سلامتی سے جڑے امور بھی شدید تشویش کا موضوع ہیں۔
کانگریس صدر نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی سرگرمیوں میں چین کے کردار کو فوج کے ڈپٹی چیف نے بھی تسلیم کیا تھا اور یہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ گلوان کے بعد سے مودی حکومت نے چین کو ہندستان کے اہم صنعتی شعبوں میں پکڑ مضبوط کرنے کا موقع دیا ہے اور اب اس کی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع کھول کر ملک کے قومی مفادات سے سمجھوتہ کیا جا رہا ہے۔