ہند-آسٹریلیا نے دفاعی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور شراکت داری کو نئی جہت عطاکی : مودی
نئی دہلی، 09 جولائی (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہندستان اور آسٹریلیا کی شراکت داری مشترکہ مستقبل کو نئی شکل دینے والی ہے اور اس سمت میں آگے بڑھتے ہوئے دونوں ممالک نے دفاع، سلامتی، سائبر، جوہری توانائی، اہم معدنیات، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدے کیے ہیں۔
آسٹریلیا کے دورے پر گئے وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو میلبورن میں اپنے آسٹریلوی ہم منصب انتھونی البنیز کے ساتھ تیسرے سربراہ اجلاس میں حصہ لینے کے بعد مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ دونوں ممالک نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک اہم مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ دونوں ممالک دوطرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے پر بھی تیزی سے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہند-بحرالکاہل خطہ دونوں ممالک کی مشترکہ خواہشات کا بھی عکاس ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مل کر لڑنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ دنیا بھر میں جاری تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی کیا جانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے ہندستان اور آسٹریلیا کو دو متحرک جمہوری اور اہم سمندری طاقتیں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جامع اسٹریٹجک شراکت داری نے گزشتہ چند سالوں میں بے مثال ترقی کی ہے اور آج کی بات چیت کے ذریعے ہمارے تعاون میں کئی نئے جہات شامل ہوئی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے جامع اقتصادی تعاون کے معاہدے پر جلد کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو دونوں ممالک کے لیے متوازن، پرجوش اور باہمی طور پر فائدہ مند ہو گا۔ ہم دوطرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے پر بھی تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک قابل تجدید توانائی کی شراکت داری، صاف توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتوں کے درمیان تعاون پر خصوصی زور دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، "وزیر اعظم سوریہ گھر یوجنا کو تعاون فراہم کرنے کے لیے ہم نے مل کر گجرات میں روف ٹاپ سولر ٹریننگ اکیڈمی قائم کی ہے۔ یہ اکیڈمی بہت سی خواتین اور نوجوانوں کی مہارت کے فروغ میں اہم تعاون دے گی۔" مسٹر مودی نے کہا کہ دونوں ممالک نے جوہری توانائی کے شعبے میں ایک اہم معاہدہ کیا ہے۔ اس سے آسٹریلیا سے ہندستان کو یورینیم کی فراہمی کا راستہ ہموار ہو گا اور صاف توانائی سے جڑے ہمارے مقاصد کو نئی طاقت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون ہماری اسٹریٹجک سکیورٹی اور صاف توانائی کی طرف منتقلی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ "اسی سوچ کے ساتھ آج ہم نے سائبر سکیورٹی، اہم ٹیکنالوجیز اور سپلائی چینز پر ہندستان-آسٹریلیا شراکت داری (اے آئی-پیکٹس) کا آغاز کیا ہے۔ ہم مل کر اہم معدنی راہداری کی تعمیر پر بھی کام کریں گے۔" ہند-بحرالکاہل خطے کو ہندستان اور آسٹریلیا جیسے ہم خیال جمہوری ممالک کی مشترکہ خواہشات کا عکاس قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہمارا سمندری سکیورٹی تعاون گائیڈ لائن ہند-بحرالکاہل خطے میں ہماری مشترکہ کوششوں کو نئی طاقت فراہم کرے گا۔ ہم جہاز سازی، جہازوں کی مرمت اور ان کی دیکھ بھال کے شعبے میں بھی مل کر آگے بڑھیں گے۔"
وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے آج ایک اہم مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ ہندستان-آسٹریلیا دفاعی اختراعی راہداری کے ذریعے ہم دفاعی شعبے کے اختراعی کاروباری اداروں اور صنعتوں کو جوڑنے کا کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندستان اور آسٹریلیا کا ماننا ہے کہ دہشت گردی صرف کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی مشترکہ ہے، ہمارا عزم اٹوٹ ہے اور ہمارا تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔
دنیا بھر میں کئی مقامات پر جاری تنازعات کے بارے میں مسٹر مودی نے کہا، "ہمارا یہ بھی یقین ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تناؤ اور جنگوں کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ہم پورے ہند-بحرالکاہل خطے میں امن، استحکام، جہاز رانی کی آزادی اور اصولوں پر مبنی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔" انہوں نے کہا کہ آنے والے سال میں دونوں ممالک میں اولمپک اور دولت مشترکہ (کامن ویلتھ) کھیلوں جیسے بڑے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد ہو گا۔ اس سے نہ صرف ہمارے کھیلوں کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے کئی نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔
مسٹر مودی نے آسٹریلیا کے ساتھ شراکت داری کو مستقبل کو نئی شکل دینے والی قرار دیتے ہوئے کہا، "آج کی ہماری گفتگو کا خلاصہ واضح ہے۔ ہندستان اور آسٹریلیا کی شراکت داری صرف حال تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ مستقبل کو بھی نئی شکل دینے والی شراکت داری ہے۔ ہم اپنے مشترکہ وژن اور یکساں مقاصد کے ساتھ مل کر مسلسل آگے بڑھتے رہیں گے۔"