راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو نے 7 جولائی کو اپنی سیکورٹی سے متعلق ظاہر کی جا رہی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انھوں نے خود کو ’بہار کا شیر‘ قرار دیا، اور کہا کہ سیکورٹی کی سطح اگر کم کر دی گئی ہے، تو اس سے انھیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے خصوصی گفتگو میں لالو یادو نے کہا کہ ’’میں بہار کا شیر ہوں اور مجھے اس (سیکورٹی سطح میں کمی) سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی جانب سے مبینہ طور پر سیاسی نشانہ بنائے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ’’انہیں نشانہ بنانے دو۔‘‘ جب اس بارے میں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی خاموشی پر لالو پرساد کا رد عمل جاننے کی کوشش کی گئی، تو انھوں نے کہا کہ ’’ہاں، سبھی خاموش ہیں۔‘‘ بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد تیجسوی یادو کی جانب سے پارٹی کی مؤثر قیادت کے بارے میں بھی لالو یادو سے سوال کیا گیا۔ اس کے جواب میں انھوں کہا کہ ’’ہاں، وہ پارٹی کو اچھی طرح آگے لے جا رہے ہیں۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘
آر جے ڈی سپریمو لالو یادو کا یہ بیان 2 جولائی کو بہار کی سیاست کے سب سے باوقار ایڈریس (پتہ) میں سے ایک پٹنہ کے ’10 سرکولر روڈ‘ واقع بنگلے کے ایک نئے باب میں داخل ہونے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ گزشتہ دنوں سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے تقریباً 20 برس وہاں رہنے کے بعد یہ سرکاری بنگلہ خالی کر دیا۔ رابڑی دیوی اپنے شوہر لالو یادو کے ساتھ کوٹلیہ نگر میں واقع خاندان کی ذاتی رہائش گاہ پر منتقل ہو گئی ہیں۔ وہ 2 فروری 2006 سے 10 سرکولر روڈ واقع سرکاری بنگلے میں رہ رہی تھیں، لیکن اب ان کا پتہ بدل گیا ہے۔
10 سرکولر روڈ واقع رہائش گاہ انہیں قائد حزب اختلاف کے طور پر ان کی مدت کار کے دوران الاٹ کی گئی تھی۔ گزشتہ چند برسوں میں یہ بنگلہ لالو خاندان کا سیاسی مرکز بن گیا تھا، جہاں انڈیا اتحاد کی متعدد میٹنگیں ہوئیں اور یہ وہ مقام تھا جہاں کئی اہم سیاسی حکمت عملیوں اور فیصلوں کو شکل دی گئی۔ اس طرح 10 سرکولر روڈ بہار میں آر جے ڈی کی سیاست کی علامت بن گیا۔
بنگلے کا قبضہ حوالے کرنے سے پہلے رابڑی دیوی نے سرکاری ملکیت کی اشیا کی سرکاری فہرست کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے عمارت تعمیرات محکمہ کو خط لکھ کر 2006 میں رہائش گاہ الاٹ کیے جانے کے وقت تیار کیے گئے اصل چارج رجسٹر اور انوینٹری فہرست کی نقل طلب کی۔ ذرائع کے مطابق محکمہ نے اب تک اصل دستاویزات فراہم نہیں کیے ہیں۔ رابڑی دیوی نے کہا کہ سرکاری املاک کے حوالے سے مستقبل میں کسی بھی تنازعہ یا الزام سے بچنے کے لیے رہائش گاہ باضابطہ طور پر حوالے کرنے سے پہلے فہرست کی تصدیق کی جانی چاہیے۔ معاملہ زیر التوا ہونے کے باوجود انہوں نے بنگلہ خالی کر دیا۔