نئی دہلی، 07 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ ایودھیا میں رام مندر چندہ چوری اور گھوٹالے کے معاملات انتہائی سنگین ہیں اور اس میں کسی طرح کی لیپا پوتی یا حقائق کوچھپانے کے بجائے ٹرسٹ کو فوری طور پر تحلیل کر کے نئے ٹرسٹ کی تشکیل کی جانی چاہیے۔
کانگریس کے سینئر رہنما اور راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ رام مندر میں زمین کے حصول سے لے کر چندہ چوری تک کے سنگین الزامات لگتے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سادھو سنتوں کو درکنار کر کے اس مندر کا افتتاح کیا اور مندر کی تعمیر کا پورا سہرا لیا لیکن جب چندہ چوری سے عوام کے ساتھ وشواس گھات (دھوکہ دہی) ہوا اور ان کی عقیدت کو ٹھیس پہنچی تو مسٹر مودی نے خاموشی اختیار کر لی۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر میں ہوئی چڑھاوا چوری کا معاملہ ملک کے گاؤں گاؤں تک پہنچ گیا ہے، تمام لوگوں میں اسے لے کر غصہ ہے۔ بھگوان شری رام کے ایودھیا میں واقع مندر سے کروڑوں لوگوں کے جذبات جڑے ہوئے ہیں، جسے بھارتیہ جنتا پارٹی۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (بی جے پی۔آر ایس ایس) نے گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔ بی جے پی۔آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے لوگوں نے مل کر یکطرفہ طور پر مندر ٹرسٹ بنایا لیکن کسی کی کوئی جوابدہی طے نہیں کی گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہیں چڑھاوا چوری ہونے کی معلومات بہت پہلے سے تھی لیکن اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور باتوں کو دبا دیا گیا۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ٹرسٹ میں کس کو رکھنا ہے یہ فیصلہ آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد نے ہی کیا اس لیے اس کے ہی لوگ اس میں بھرے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے سابق وزیر اعظم نرسہما راؤ کے وقت جس ٹرسٹ کی بات ہوئی تھی اس کو بنیاد بنا کر چلتے تو شاید اتنا بڑا گھوٹالہ نہ ہوتا اور کروڑوں رام بھکتوں کے جذبات کو اس طرح صدمہ نہ پہنچتا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس معاملے میں اب بھی لیپا پوتی کی جا رہی ہے۔ چندہ چوری کو لے کر پیر کو ٹرسٹ کی میٹنگ ہوئی جس میں چمپت رائے سمیت کچھ لوگوں کے استعفے قبول کرنے کی بات کہی گئی ہے لیکن میٹنگ میں کیئے گئے فیصلوں کے بارے میں جو معلومات دی گئی ہیں اس میں چندہ چوری کے واقعے کی وجہ لاپرواہی بتائی گئی ہے۔ انہوں نے اسے حیران کن بیان بتایا اور کہا کہ جب سب کچھ آر ایس ایس وشو ہندو پریشد کے لوگوں کے حوالے ہے اور وقت رہتے گھوٹالہ ہونے کی بات سامنے آنے کی بات بھی کہی جا رہی ہے تو لاپرواہی کہاں سے ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ذمہ داری طے کی جانی ضروری ہے اور قصورواروں کو سزا ملے اس کے لیے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں جامع جانچ ہو۔